ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈیلٹا یا لیمبڈا کورونا کا کونسا ویریئنٹ ہے سب سے زیادہ خطرناک ؟ ماہرین نے کہی یہ بات

ڈاکٹر ایس کے سرین نے کہا کہ کورونا انفیکشن کی دوسری لہر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ اگر کوئی سیاح پورے ملک میں گھومتے ہوئے ایک ہل اسٹیشن پر پہنچتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ وہاں وائرس لے گیا ہو اور بھیڑ کی وجہ سے یہ ایک سپراسپریڈر بن جائے گا ۔ یہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔

  • Share this:
ڈیلٹا یا لیمبڈا کورونا کا کونسا ویریئنٹ ہے سب سے زیادہ خطرناک ؟ ماہرین نے کہی یہ بات
ڈیلٹا یا لیمبڈا کورونا کا کونسا ویریئنٹ ہے سب سے زیادہ خطرناک ؟ ماہرین نے کہی یہ بات

نئی دہلی : کورونا کے ڈیلٹا اور لیمبڈا ویریئنٹ ملنے کے بعد ایکسپرٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ انہی دونوں ویریئنٹ کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر آسکتی ہے ۔ ساتھ ہی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر کار دونوں ویریئنٹ میں سے کونسا زیادہ خطرناک ہے ؟ اس پر بات کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بائیلیری سائسنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس کے سرین نے کہا کہ دہلی میں ڈیلٹا پلس ویریئنٹ سے انفیکشن کے معاملات بڑی تعداد میں نہیں ہیں ، لیکن یہ موجود ہے ۔ ڈیلٹا بھی تشویشناک ہے ، ہم اس وقت لیمبڈا ویریئنٹ کو لے کر زیادہ فکرمند ہیں ۔ ہمارے ملک میں ابھی اس کے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ، لیکن یہ آسکتا ہے ۔


ڈاکٹر ایس کے سرین نے کہا کہ کورونا انفیکشن کی دوسری لہر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ اگر کوئی سیاح پورے ملک میں گھومتے ہوئے ایک ہل اسٹیشن پر پہنچتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ وہاں وائرس لے گیا ہو اور بھیڑ کی وجہ سے یہ ایک سپراسپریڈر بن جائے گا ۔ یہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔ بتادیں کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ملک کے مختلف ہل اسٹیشنوں پر لوگوں کی بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ہل اسٹینشوں پر لوگوں کی بھیڑ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی قومی شاہراہ ٹریفک کی وجہ سے بلاک ہوگئے ہیں ۔


کیا ایسے وقت میں ممکن ہے کانوڑ یاترا؟


ڈاکٹر ایس کے سرین نے کانوڑ یاترا کو لے کر کہا کہ جب تک لوگ سماج سے یہ وعدہ نہیں کرتے کہ وہ غلط رویہ اختیار نہیں کریں گے ، مجھے لگتا ہے کہ یاترا خطرناک ہوسکتی ہے ۔ اگر لوگ کورونا پروٹوکول پر عمل نہیں کرتے ہیں تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ اس کی احتیاط کے ساتھ نگرانی کی جانی چاہئے ۔

لیمبڈا ویریئنٹ پر کی جارہی نگرانی

نیتی آیوگ کے رکن ( صحت) ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ لیمبڈا ویرئنٹ پر دھیان دینے کی ضرورت ہے اور اس لئے اس کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ جہاں تک ہم جانتے ہیں کہ اس نے ہمارے ملک میں انٹری نہیں کی ہے ، اپنے ملک میں یہ نہیں ملا ہے ، ہمارا نگرانی سسٹم آئی این ایس اے سی جی او بہت کارگر ہے اور اگر یہ ویریئنٹ ملک میں انٹری کرتا ہے تو وہ اس کا پتہ لگا لے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 11, 2021 06:11 PM IST