ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

لاک ڈاؤن کے سبب مشکل میں پھنسےغریبوں کی مدد کیلئے پٹنہ کی مسلم تنظیموں نے چھیڑی مہم، سینکڑوں خاندانوں کو ایک دن میں پہنچایا جارہا راشن

مقامی سطح پرغیر سیاسی تنظیموں کی جانب سے ہاسٹلوں ، جھوپڑ پٹیوں ، ریکشا ٹھیلا چلانے والے لوگوں کے درمیان ، دیہاڑی مزدوروں کو اور اسپتالوں میں موجود لوگوں کو کھانا ، راشن اور دیگر چیزوں کو پہنچانے کی ہوڑ ہے ۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن کے سبب مشکل میں پھنسےغریبوں کی مدد کیلئے پٹنہ کی مسلم تنظیموں نے چھیڑی مہم، سینکڑوں خاندانوں کو ایک دن میں پہنچایا جارہا راشن
لاک ڈاؤن کے سبب مشکل میں پھنسےغریبوں کی مدد کیلئے پٹنہ کی مسلم تنظیموں نے چھیڑی مہم

کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار بھائی چارہ اور امن و امان پر منحصر کرتا ہے۔ ملک کے عوام کا نظریہ کیسا ہے ، اس بات کا ثبوت تب ملتا ہے جب حالات ناگفتبہ ہوتے ہیں ۔ کورونا کو دیکھتے ہوئے لوک ڈاؤن لگایا گیا ہے اور اس درمیان دیہاڑی مزدور اور غریبوں کے چولہے کی روشنی بجھنے لگی ہے ، لیکن پٹنہ میں سماجی ، مذہبی اور مقامی لوگوں نے غریبوں کے بجھتے ہوئے چولہا کو پھر سے روشن کردیا ہے اور یہ کمال اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے سبب ہوا ہے۔


ایسے موقع پر جب تبلیغی جماعت کے ایشو پر میڈیا کی خبروں نے مسلم سماج کے ایک بڑے حصہ کو مایوس کیا ہے ۔ مسلمانوں نے جماعت کے لوگوں کو باہر آکر اپنا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی وہیں اپنے پڑوسیوں کے لئے اپنے دروازے کو بند نہیں کیا ، بلکہ اپنا دن اور رات سماج کے لئے وقف کردیا ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس پہل میں نہ ہی کوئی منفی سوچ حاوی رہی ، نہ ہی کوئی سیاست اور نہ ہی کوئی بھید بھاؤ ۔


بہار شیعہ وقف بورڈ لگاتار دس دنوں سے روزانہ دو سے تین سو گھروں میں ایک ہفتہ کا راشن تقسیم کررہا ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین کی یہ نجی کوشش ہے ، جس کو مقامی لوگوں کا تعاون حاصل ہے ۔ ارشاد علی آزاد اور مقامی لوگوں کی ٹیم دن کے گیارہ بجے سے رات کے نو بجے تک غریب اور ضرورت مندوں کو تلاش کرکے ایک ہفتہ کا راشن دینے کی کوشش میں مصرف ہے ۔ نیوز اٹین سے بات کرتے ہوئے شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ جو لوگ ان کے دفتر تک پہنچ کر راشن نہیں لینا چاہتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ان کی ٹیم رات میں جاکر راشن پہنچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ اب تک تقریبا اٹھارہ سو گھروں میں راشن پہنچا چکا ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ نے صوبہ کے تمام وقف اسٹیٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا دس فیصد رقم اس کام کے لئے خرچ کرے اور بغیر کسی تفریق کے غریبوں کے درمیان راشن کا تقسیم کیا جائے۔




امارت شرعیہ بہار بڑے پیمانے پر اس کام میں مصروف ہے ۔ امارت کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی اور امارت کے جنرل سکریٹری مولانا شبلی قاسمی کی قیادت میں اب تک تقریبا پانچ ہزار خاندان کے درمیان دس دنوں کا راشن تقسیم کیا جاچکا ہے اور لگاتار امارت کا کام جاری ہے ۔ امارت شرعیہ بہار نے ضلع کے اپنے تمام دفاتر سے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے ساتھ ہی لوگوں کو بھی اس کام میں اپنا تعاون دینے کی اپیل کی ہے ۔ امارت کی اپیل کا ضلعوں میں بھی اثر دیکھا جارہا ہے ۔

قومی اتحاد مورچہ کے قومی صدر مولانا غلام رسول بلیاوی جو ادارہ شرعیہ بہار کے بھی صدر ہیں ، ان کی قیادت میں تقریبا ایک ہزار لوگوں کو دس دنوں کا راشن دیا گیا ہے۔ ادھر آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا انیس الرحمٰن قاسمی کے زیر اہتمام پھلواری شریف میں غریب اور ضرورت مندوں کے درمیان راشن پہنچانے کی مہیم چل رہی ہے ۔ مولانا انیس الرحمٰن کے مطابق تقریبا پانچ ہزار لوگوں کو کونسل کی جانب سے مدد پہنچائی جا چکی ہے اور یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے۔



پٹنہ میں واقع زکوۃ بھون نے سب سے پہلے اس کام کو شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ دانا پور اور شہر کے غریب جھوپڑ پٹیوں و گندے بستیوں میں زکوۃ بھون نے کام کیا ہے ۔ پہلے سے ہی غریبی کی مار جھیل رہے وہاں کے لوگوں کو زکوۃ بھون نے کپڑے سے لیکر کھانے تک کا سامان مہیا کرایا ہے۔ زکوۃ بھون کا دفتر ہمیشہ کھلا رہتا ہے ، جس میں سبھی مذاہب کے لوگ اپنا استعمال کیا ہوا سامان چھوڑ جاتے ہیں اور ایسے سامانوں اور کپڑوں کو بھی زکوۃ بھون بغیر کسی تفریق کے غریبوں تک پہنچانے کا کام کرتی ہے ۔

اسی طرح مقامی سطح پرغیر سیاسی تنظیموں کی جانب سے ہاسٹلوں ، جھوپڑ پٹیوں ، ریکشا ٹھیلا چلانے والے لوگوں کے درمیان ، دیہاڑی مزدوروں کو اور اسپتالوں میں موجود لوگوں کو کھانا ، راشن اور دیگر چیزوں کو پہنچانے کی ہوڑ ہے ۔ ہر شخص اس آفت میں لوگوں کی مدد کر کے خوشی محسوس کررہا ہے ۔ اس ہوڑ کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ سیاست بھلے ہی محبت کے راستوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہو ، لیکن عام لوگوں کے درمیان محبت ایک بڑے سمندر کی طرح موجیں مارتی ہوئی نظر آجاتی ہے ۔ شاید اسلئے ہی اس ملک کو جنت سے بھی اوپر کا درجہ دیا گیا ہے ۔
First published: Apr 07, 2020 09:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading