உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    COVID-19 : اومیکران کے سب ویریئنٹ BA.2 سے سائنسدانوں میں دہشت! ہندوستان سمیت 40 ممالک کیلئے خطرے کے گھنٹی

    COVID-19 : اومیکران کے سب ویریئنٹ BA.2 سے سائنسدانوں میں دہشت! ہندوستان سمیت 40 ممالک کیلئے خطرے کے گھنٹی

    COVID-19 : اومیکران کے سب ویریئنٹ BA.2 سے سائنسدانوں میں دہشت! ہندوستان سمیت 40 ممالک کیلئے خطرے کے گھنٹی

    Coronavirus Omicron Sub Variant: کورونا وائرس کے اومیکران ویریئنٹ کے حال ہی میں تلاش کئے گئے سب ویریئنٹ پر سائنسدان گہری نظر رکھ رہے ہیں تاکہ طے کیا جاسکے کہ اس کا ابھرنا مستقبل میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کورونا وائرس کے اومیکران ویریئنٹ کے حال ہی میں تلاش کئے گئے سب ویریئنٹ پر سائنسدان گہری نظر رکھ رہے ہیں تاکہ طے کیا جاسکے کہ اس کا ابھرنا مستقبل میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ شروعاتی اومیکران ویریئنٹ حال کے مہینوں میں وائرس کا سب سے خطرناک اسٹرین بن گیا ہے ، لیکن برطانوی محکمہ صحت کے اہلکاروں نے بی اے 2 نام کے نئے ویریئنٹ کے سیکڑوں معاملات کی خاص طور پر شناخت کی ہے جبکہ بین الاقوامی ڈیٹا کا مشورہ ہے کہ یہ نسبتاً تیزی سے پھیل رہا ہے۔

      یوکے ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی  (UKHSA) نے اس مہینے کے پہلے دس دنوں میں برطانیہ میں BA.2 کے 400 سے زیادہ معاملات کی شناخت کی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ تقریبا 40 دیگر ممالک میں بھی اومیکران کے نئے ویریئنٹ کا پتہ چلا ہے ۔ اس کے تحت ہندوستان ، ڈنمارک اور سویڈن جیسے کچھ ممالک میں آئے سب سے حالیہ معاملات میں سب ویریئنٹ سے وابستہ مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔

      یو کے ایچ ایس اے نے جمعہ کو اشارہ دیا کہ اس نے اومیکران کے سب ویریئنٹ بی اے 2 کو جانچ کے تحت ایک ایڈیشن کے طور پر نامزد کیا تھا کیونکہ اس کے معاملات بڑھ رہے تھے ۔ حالانکہ برطانیہ میں ان دنوں آرہے کورونا کے زیادہ تر معاملات کی وجہ BA.1 ہے ۔

      برطانوی اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ وائرل جینوم میں تبدیلیوں کی اہمیت کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے، جس کیلئے نگرانی کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا حالیہ دنوں کے معاملات پر نظر ڈالیں ، تو ہندوستان اور ڈنمارک میں خاص طور پر BA.2 کے معاملات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔

      اومیکران کو کورونا وائرس کے مختلف ویریئنٹس میں سب سے خطرناک سمجھا جارہا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے 26 نومبر کو اسے تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے اومیکران کا نام دیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: