ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سارک ممبر ممالک کے درمیان کورونا پر ہورہی تھی سنجیدہ بحث ، تبھی پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ ، ملا یہ جواب

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا غیراخلاقی سلوک ہے ۔ انہوں نے ایک انسانی مسئلہ پر سیاست کرنے کی کوشش کی ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے لئے سیاسی فائدہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود سے زیادہ اہم ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 15, 2020 10:43 PM IST
  • Share this:
سارک ممبر ممالک کے درمیان کورونا پر ہورہی تھی سنجیدہ بحث ، تبھی پاکستان نے الاپا کشمیر کا راگ ، ملا یہ جواب
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی فائل فوٹو ۔ تصویر : اے پی ۔

ہندوستان نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے جنوب ایشیائی تنظیم برائےعلاقائی تعاون (سارک) کے ممبر ممالک کی ویڈیو کانفرنسنگ میں پاکستان کے صحت کے مشیر کی طرف سے جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو انسانی المیہ کے وقت بھی اپنے شہریوں کے مفاد کو چھوڑ کر صرف اپنے سیاسی فائدے کا خیال رہتا ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان کے اقدام پر منعقدہ اس میٹنگ کے لئے خطے کے تمام ممالک کے اعلی سیاستدان آگے آئے ۔ یہاں تک کہ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے دوسرے دن سرجری کے بعد اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد ویڈیو کانفرنسنگ میں شرکت کی ۔ لیکن عمران خان نے ، پاکستان کی جانب سے خود آنے کی بجائے اپنے مشیر کو بھیجنا مناسب سمجھا ، جو اجلاس میں اپنی بات کہنے میں بھی پرسکون نظر نہیں آئے ۔ سب نے دیکھا کہ کسی نے اسے پرچی دے دی ، جس کے بعد اس نے جموں و کشمیر پر تبصرہ کیا۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا غیراخلاقی سلوک ہے ۔ انہوں نے ایک انسانی مسئلہ پر سیاست کرنے کی کوشش کی ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے لئے سیاسی فائدہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود سے زیادہ اہم ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ میں حکومت پاکستان میں وزیر صحت کے مساوی اور مشیر ظفر مرزا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کووڈ 19 کا معاملہ سامنے آنا بھی تشویش کا باعث ہے ، لہذا جموں و کشمیر میں جو پورا لاک ڈاؤن ہے ، اس کو ختم کیا جانا چاہئے۔


ادھر سارک رہنماؤں کی ویڈیو کانفرنسنگ کے بعد جب سارک پلیٹ فارم کے فعال ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو ذرائع نے بتایا کہ ابھی کچھ بھی کہنا بہت جلد ہوگا ۔ اس ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ سارک کے رہنما کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اس اقدام سے کوئی آغاز ہوگا ۔
First published: Mar 15, 2020 10:43 PM IST