ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کیرالہ : صرف 20 منٹ میں ایک شخص سے چار لوگوں تک پہنچا کورونا وائرس

کاسرگوڈ کے کلیکٹر ڈی سجیتھ بابو نے کورونا وائرس کے کیس کو لے کر ایک بڑا انکشاف کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 صرف بیس منٹ میں ایک شخص سے چار لوگوں میں پھیل گیا ۔

  • Share this:
کیرالہ : صرف 20 منٹ میں ایک شخص سے چار لوگوں تک پہنچا کورونا وائرس
فائل فوٹو

ملک میں کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس کے کیس مسلسل بڑھتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں کیرالہ کے کاسرگوڈ سے ایسی خبر سامنے آئی ہے ، جس نے لوگوں کو حیران کردیا ہے ۔ دی نیوز منٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کاسرگوڈ میں بدھ کو کلیکٹر ڈی سجیتھ بابو نے کورونا وائرس کے کیس کو لے کر ایک بڑا انکشاف کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 صرف بیس منٹ میں ایک شخص سے چار لوگوں میں پھیل گیا ۔


سجیتھ بابو نے مزید کہا کہ دوسرے نمبر کا مریض 16 مارچ کو دبئی سے کاسرگوڈ آیا تھا ۔ مریض نے جانچ کیلئے نمونے دئے اور انہیں آئسولیشن میں رہنے کیلئے گھر بھیج دیا گیا ۔ اس کے بعد وہ گھر میں بیس منٹ کیلئے اپنی ماں ، بیوی اور بچے سے ملا ، جو کہ 20 مارچ کو مثبت پائے گئے ۔ ان کے ایک دوست جو انہیں ائیر پورٹ پر لینے کیلئے گئے تھے وہ بھی مثبت پائے گئے ہیں ۔ سبھی انفیکٹیڈ لوگوں کو فی الحال آئسولیشن میں رکھا گیا ہے ۔


مریض نمبر دو کے علاوہ انتظامیہ کو اس شخص کی رپورٹ کا بھی انتظار ہے جو کہ مریض نمبر تین کے رابطے میں آیا تھا ۔ یہ شخص 47 سال کا ایک تاجر ہے جو کہ دبئی سے لوٹا تھا ۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ چار اضلاع کے ہزاروں لوگوں کے رابطے میں آیا ہو ۔ کیونکہ یہ کئی کلب ، تین شادیوں ، ایک آخری رسومات اور کئی دیگر عوامی پروگراموں میں شامل ہوا تھا ۔ یہ شخص ریاست میں تقریبا چودہ سو لوگوں کے رابطے میں آیا ۔


کاسرگوڈ کے حالات کو سمجھنے کیلئے بدھ کو جانچ کیلئے بھیجے گئے نتیجے کافی اہم ہیں ۔ کلیکٹر نے کہا کہ ہم ٹیسٹ کیلئے بھیجے گئے سستر نمونوں کی جانچ کے نتائج کا انتظار کررہے ہیں ۔ یہ ایک ہم دن ہے ۔ آج ٹیسٹ کیلئے دئے گئے نمونوں میں وہ لوگ شامل ہیں ، جو 47 سالہ تاجر کے رابطے میں آئے تھے ۔

ضلع میں پانچ کٹ کی جانکاری دیتے ہوئے کلیکٹر نے بتایا کہ کاسرگوڈ میں تیرہ لاکھ لوگ رہتے ہیں اور ہر کسی کیلئے جانچ کٹ دستیاب کرانا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرس ہمیں بتا رہے ہیں کہ کس کی جانچ کرنی ہے اور کس کی نہیں ، ہمارے پاس تیرہ لاکھ کٹس نہیں ہیں اور ہمیں ہر ایک کو جانچنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
First published: Mar 25, 2020 08:40 PM IST