کھانسی کی دوا سے موت کا معاملہ: مرکزی حکومت نے 20 ریاستوں میں کی بڑی کارروائی، 18 فارما کمپنیوں کے لائسنسرد

Cough Syrup Death Case: 18 ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنس رد کرنے کے علاوہ 3 فارما کمپنیوں کی پروڈکٹ پرمیشنز بھی روک دی گئی ہیں جب کہ 26 فرموں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

Cough Syrup Death Case: 18 ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنس رد کرنے کے علاوہ 3 فارما کمپنیوں کی پروڈکٹ پرمیشنز بھی روک دی گئی ہیں جب کہ 26 فرموں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

Cough Syrup Death Case: 18 ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنس رد کرنے کے علاوہ 3 فارما کمپنیوں کی پروڈکٹ پرمیشنز بھی روک دی گئی ہیں جب کہ 26 فرموں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Delhi, India
  • Share this:
    دہلی. مرکزی حکومت نے ملک بھر کی فارما کمپنیوں پر بڑی کارروائی کی ہے۔ نقلی ادویات بنانے والوں پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ وزارت صحت کے اعلیٰ ذرائع نے منگل کو یہ اطلاع دی ہے۔ اس کے تحت کئی فارما کمپنیوں پر ایکشن ہوا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI) نے ملک میں 76 دوا ساز کمپنیوں کا معائنہ کیا، جس کے بعد 18 فارما کمپنیوں کے لائسنس رد کر دیے گئے۔ یہ حیران کن کارروائی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی مشترکہ ٹیم نے کی ہے۔

    18 ادویہ ساز کمپنیوں کے لائسنس رد کرنے کے علاوہ 3 فارما کمپنیوں کی پروڈکٹ پرمیشنز بھی روک دی گئی ہیں جب کہ 26 فرموں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ جانچ کے لیے کل 203 فارما کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ڈی سی جی آئی کی یہ کارروائی ملک کی 20 ریاستوں میں 15 دنوں سے جاری ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گی۔

    کیا پھر آئے گی کوروناوائرس کی آفت، نئے XBB.1.16ویریئنٹ سے بڑھے کیس، ڈاکٹرس نے دی یہ صلاح

     


    ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں آندھرا پردیش، بہار، دہلی، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال میں DCGI کی کارروائی ہوئی ہے۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ اکتوبر میں گیمبیا نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستان میں بنائے گئے سیرپ کی وجہ سے 66 بچوں کی موت ہوئی تھی۔ حالانکہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ بچوں کی موت ہندستانی کھانسی کے سیرپ سے ہوئی ہے۔

     

    وہیں گیمبیا میں 66 بچوں کی موت کے بعد اب ازبکستان نے بھی یہاں بچوں کی موت کا ذمہ دار ایک ہندوستانی دوا ساز کمپنی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ دراصل ازبکستان کی وزارت صحت نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں 18 بچے ایک ہندوستانی دوا ساز کمپنی کی تیار کردہ ادویات کھانے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میریون بائیوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ 2012 (Marion Biotech pvt Ltd) میں ازبکستان میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ اس کمپنی کے ذریعے تیار کردہ 'ڈاک-1 میکس' سیرپ فی الحال ہندوستانی بازار میں نہیں بیچا جا رہا ہے۔

    جان لیوا ہوگیا H3N2وائرس، جانئے کیسے ہوتا ہے ٹیسٹ، کتنا خرچچ آئےگا اور کب تک آئےگی رپورٹ

    لوٹ رہے خوف کے دن؟ 1دن میں کورونا وائرس کے 500 نئے معاملے، 500 دنوں بعد پھر خطرے کی آہٹ!

    اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی حکومت نے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کی تشکیل اسٹینڈنگ نیشنل کمیٹی آن میڈیسن کے وائس چیئرمین ڈاکٹر وائی کے گپتا کی صدارت میں کی گئی تھی۔ جانچ رپورٹ آنے تک کمپنی کا پروڈکشن بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یکم، تین، چھ اور گیارہ اکتوبر کو جہاں یہ سیرپ تیار کیا جا رہا تھا، اس کا معائنہ کیا گیا۔ وہاں سے نمونے اکٹھے کر کے چندی گڑھ کی لیب میں بھیجے گئے تھے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: