உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم سے پاکستان میں ہلچل، ’اسٹیلتھ ڈرونس‘ کے ذریعے نمٹنے میں مصروف ہے پڑوسی ملک

    S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم (فائل فوٹو)

    S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم (فائل فوٹو)

    پاکستان کی سرحد پر اس سسٹم کو تیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ اس کی طویل سرحد ہے۔ ایسے میں ایس-400 ملک کے زیادہ تر حصے کو کور کرتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان کے نئے S-400 ایئر میزائل ڈیفنس سسٹم (S-400 Air missile defense system) کے پہلے بیچ کو اس سال اپریل تک شروع کردیا جائے گا۔ روس (Russia) کی جانب سے تیار کیے گئے میزائل ڈیفنس سسٹم کو پنجاب میں تعینات کیا گیاہے۔ ریاست کی سرحد پاکستان (Pakistan) سے لگتی ہے، تو ایسے میں پڑوسی ملک میں ہلچل ہونا لازمی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے S-400 کی تعیناتی کا مقصد ملک کی فضائی سلامتی کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اسے دنیا میں اپنی طرح کی سب سے بہترین سسٹمس میں سے ایک کے طو رپر جانا جاتا ہے۔

      400 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ، ایس 400 ٹرائمف (S-400 Tirump) میں راکٹ، میزائل، کروز میزائل اور یہاں تک کہ جہاز جیسے مختلف ہتھیاروں کے خلاف اپنے فضائی ڈیفنس سسٹم کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ S-400 کی ممکنہ جارحانہ صلاحیت اس کی اصل طاقت کو دکھاتی ہے۔ یہ دشمن ملک کے اپنے ہوائی علاقے کے استعمال کو پابند کردیتا ہے۔ وہیں، پاکستان کی سرحد پر اس سسٹم کو تیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ اس کی طویل سرحد ہے۔ ایسے میں ایس-400 ملک کے زیادہ تر حصے کو کور کرتا ہے۔

      پاکستان کی جانب سے S-400 کو لے کر کیا ریسپانس آیا؟
      ہندوستان نے S-400 کو پاکستان اور چین دونوں سے نمٹنے کے لئے خریدا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا سسٹم ہے۔ اسے HQ-9B سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پاکستان نے پچھلے سال اکتوبر میں اس کے ایک دیگر ورژن HQ-9/Pکو فوج میں شامل کیا۔ HQ-9/P ایک انٹیگریٹڈ ایئر اور میزائل ڈیفنس نیٹ ورک کے حصے کے طور پر کام کرنے کے قابل۔ اس سسٹم کی رینج 100 کلومیٹر ہے۔ تاہم، خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی حد صرف ہوائی جہاز پر لاگو ہوتی ہے۔

      پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے پاس ایس-400 جیسا مہنگا میزائل سسٹم خریدنے کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس-400 کے جواب میں پاکستان ڈرون پر بھروسہ جتارہا ہے۔ پاکستان ترکی سے ڈرون خرید رہا ہے اور اپنی ڈرون یونٹ کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ ایس-400 سے نمٹنے کے لئے پاکستان ڈرون کا استعمال کرسکتا ہے، تا کہ سسٹم کے رڈار کو جام کردیا جائے۔ ایس-40 کا رڈار سینکڑوں ٹارگیٹ کا پتہ لگا سکتا ہے لیکن ہر ریجمنٹ کے پاس محدود تعدادمیں انٹرسیپٹر میزائل ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: