உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدالت کا فیصلہ: ساس کا بہو کو طعنے دینا ظلم کے زمرے میں نہیں، جہیز و قتل کیس کا ملزم بری

    عدالت نے کہا کہ مقتول کی والدہ کی گواہی سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ متوفی کو طعنے دینے کے علاوہ کوئی ظلم کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ خاندان کے تانے بانے میں طعنے دینے کی عام حرکتیں ظلم نہیں ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      دہلی کی ایک عدالت نے جہیز کی مانگ کو لیکر اپنی بیوی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور اسے خودکشی پر اکسانے کے الزام سے ایک شوہر اور اس کے والدین کو بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خاندان کے تانے بانے میں طعنے دینے کی عام حرکتیں ظلم نہیں بن جاتیں۔ دراصل ملزمان پر متاثرہ کو خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام لگا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ متوفی کو ظلم یا ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ ملزم نے متاثرہ کو خودکشی کے لیے اکسایا ہو۔

      عدالت نے کہا کہ مقتول کی والدہ کی گواہی سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ متوفی کو طعنے دینے کے علاوہ کوئی ظلم کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ خاندان کے تانے بانے میں طعنے دینے کی عام حرکتیں ظلم نہیں ہیں۔ ظلم کا مطلب آئی پی سی کی دفعہ 498-A کے تحت ہراساں کرنا ہے جس کے مقصد سے عورت یا اس کے والدین کو جائیداد کی کسی بھی غیر قانونی مانگ کو پورا کرنے پر مجبور کیا جائے۔

      آپ کو بتاتے چلیں کہ ایک خاتون نے شادی کے 15 ماہ کے اندر ہی پھانسی لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ متوفی کے والدین نے الزام لگایا تھا کہ شوہر اور سسرال والے ان کی بیٹی کو جہیز کے لیے ہراساں کرتے تھے۔ شوہر پر خودکشی کے لیے اکسانے کا بھی الزام تھا۔

      Relationship میں آپ بھی ہو رہے ہیں Anxiety کا شکار؟ ان 6علامات سے کریں پہچان

      India Vs Pakistan میچ میں ساؤتھ سپر اسٹار بولے، وراٹ انا کی بایوپک کرنا چاہتا ہوں

      ایڈیشنل سیشن جج نیرج گوڑ نے یہ ثابت کیا کہ Prosecution یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ متوفی کو اس کی موت سے کچھ دیر پہلے ظلم یا ہراساں کیا گیا تھا یا جہیز کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جج نے 27 اگست کے ایک حکم میں کہا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ متوفی کو آئی پی سی کی دفعہ 498 اے کے تحت ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: