کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ: عدالت نے بتایا، وشال جنگوترا کو کیوں کرنا پڑا بری؟

کٹھوعہ معاملہ میں پٹھان کوٹ خصوصی عدالت نے اصل ملزم سانجھی رام سمیت تین ملزمان کو عمر قید اور تین پولیس والوں کو 5-5 سال کی سزا سنائی ہے۔

Jun 12, 2019 11:03 AM IST | Updated on: Jun 12, 2019 11:03 AM IST
کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ: عدالت نے بتایا، وشال جنگوترا کو کیوں کرنا پڑا بری؟

فوٹو: نیوز 18 کریٹیو

جموں وکشمیر کے کٹھوعہ میں 8 سالہ بچی کی ہوئی عصمت دری اور قتل معاملہ میں ملزمان کی سزا کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پٹھان کوٹ خصوصی عدالت نے اصل ملزم سانجھی رام سمیت تین ملزمان کو عمر قید اور تین پولیس والوں کو 5-5 سال کی سزا سنائی ہے۔ وہیں، ایک دیگر ملزم وشال جنگوترا کو بری کر دیا گیا ہے۔ وشال اصل ملزم سانجھی رام کا بیٹا ہے۔ عدالت نے بتایا کہ ثبوتوں کے فقدان میں وشال کو بری کیا گیا۔ استغاثہ فریق یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ واقعہ کے وقت وشال میرٹھ میں نہیں بلکہ کٹھوعہ میں تھا۔

پٹھان کوٹ خصوصی عدالت نے کہا کہ کٹھوعہ اجتماعی عصمت دری اور قتل کی جانچ کے دوران وشال جنگوترا کی غیر موجودگی کے دعوے کو مسترد کرنے میں استغاثہ فریق ناکام رہے۔ اسی وجہ سے وہ بری ہوا ہے۔ کورٹ نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں پولیس کی کرائم برانچ نے جنگوترا کے خلاف سب سے مضبوط ثبوت چھپایا۔

Loading...

پیر کے روز اپنے تفصیلی حکم نامہ میں عدالت نے کہا کہ ’’ اس عدالت کا ماننا ہے کہ وشال جنگوترا کے خلاف استغاثہ فریق کے مقدمہ میں بڑی خامی ہے‘‘۔

Loading...