உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش: 8 ویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی اور حاملہ کرنے کے قصور وار دیپک کو عمرقید

    اترپردیش: 8 ویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی اور حاملہ کرنے کے قصور وار دیپک کو عمرقید

    اترپردیش: 8 ویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی اور حاملہ کرنے کے قصور وار دیپک کو عمرقید

    اترپردیش کے سون بھدر (Sonbhadra) میں دو سال قبل نابالغ طالبہ کے ساتھ ہوئی آبروریزی (Rape) اور اسے حاملہ ہونے کے معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج/ خصوصی جج پاکسو ایکٹ پنکج شریواستو کی عدالت نے بدھ کو قصوروار پاکر دیپک بھارتی کو عمر قید (Life Imprisonment) کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ دیپک پر ایک لاکھ پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔

    • Share this:
      سون بھدر: اترپردیش کے سون بھدر (Sonbhadra) میں دو سال قبل نابالغ طالبہ کے ساتھ ہوئی آبروریزی (Rape) اور اسے حاملہ ہونے کے معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج/ خصوصی جج پاکسو ایکٹ پنکج شریواستو کی عدالت نے بدھ کو قصوروار پاکر دیپک بھارتی کو عمر قید (Life Imprisonment) کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ دیپک پر ایک لاکھ پانچ ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ جرمانہ نہ دینے پر 6 ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہوگی۔ وہیں ابھی تک جیل میں گزارے گئے عرصے کو سزا میں شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ جرمانے کی پوری رقم ضابطے کے مطابق متاثرہ کو ملے گی۔

      استغاثہ کے مطابق، شکتی نگر تھانہ علاقے کے ایک گاوں کی متاثرہ کی ماں نے یکم اکتوبر، 2019 کو تحریر دے کر الزام لگایا تھا کہ اس کی 15 سالہ نابالغ بیٹی کے ساتھ 7-6 ماہ سے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر شکتی نگر تھانہ علاقے کے تارا پور پرسوار راجہ باشندہ بھارتی زبردستی آبروریزی کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی کلاس-8 کی طالبہ بیٹی حاملہ ہوگئی ہے۔ اس تحریر پر پولیس نے آبروریزی اور پاکسو ایکٹ کے تحت دیپک بھارتی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی تفتیش کی۔

      مناسب شواہد ملنے پر تفتیش کار نے عدالت میں چارج شیٹ دائر کی تھی۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے دونوں فریق کے وکلا کے ترکوں کو سننے، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ پر نظر ڈالنے کے بعد مجرم قرار پانے کے بعد مجرم دیپک بھارتی کو عمر قید اور ایک لاکھ پانچ ہزار روپئے کے جرمانے کی سزا سنائی۔ جرمانہ نہ دینے پر 6 ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہوگی۔ جیل میں گزاری گئی مدت سزا میں شامل کیا جائے گا۔ وہیں جرمانے کی رقم ضابطے کے مطابق، متاثرہ کو ملے گی۔ استغاثہ کی طرف سے سرکاری وکیل دنیش اگرہری اور ستیہ پرکاش ترپاٹھی ایڈوکیٹ نے بحث کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: