ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سیتاپورلوجہادمعاملہ: یوگی حکومت سے جواب طلب،قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط: مولانا ارشد مدنی

یوپی کے سیتا پور شہر سے لو جہاد کے نام پر گرفتار 10 ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے والی عرضی پر آج الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے لوجہاد قانون کے غلط استعمال پریوپی سرکار سے جواب طلب کیا ہے، نیز سرکاری وکیل کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

  • Share this:
سیتاپورلوجہادمعاملہ: یوگی حکومت سے جواب طلب،قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط: مولانا ارشد مدنی
سیتاپور لو جہاد معاملہ میں یوگی حکومت سے جواب طلب، قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی: یوپی کے سیتا پور شہر سے لو جہاد کے نام پر گرفتار 10 ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے والی عرضی پر آج الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے لوجہاد قانون کے غلط استعمال پریوپی سرکار سے جواب طلب کیا ہے، نیز سرکاری وکیل کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔ وہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے قانون کو شہریوں کی آزادی اور خودمختاری پر ایک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم سماعت کرتے ہوئے دیا۔


اس طرح سماعت ملتوی ہوگئی


اس سے قبل عدالت نے یو پی حکومت کو ملزمین کی جانب سے داخل عرضداشت پر جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن آج سرکار کی جانب سے جواب داخل نہ ہونے کی صورت میں عدالت نے یوپی سرکار کی نمائندگی کرنے والے وکیل کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ جسٹس نریندر کمار جوہری کے روبرو آج معاملہ سماعت کے لئے پیش ہوا، جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ او پی تیوار ی نے عدالت کو بتایا کہ پولس نے 10 بے قصور لوگوں کو جس میں خواتین بھی شامل ہیں، کو حراست میں لے کر آئین ہند کے ذریعہ دی گئی ان کی شخصی آزادی ختم کردی ہے، لہٰذا ان کے خلاف قائم مقدمہ ختم کیا جائے۔




الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے لوجہاد قانون کے غلط استعمال پریوپی سرکار سے جواب طلب کیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے لوجہاد قانون کے غلط استعمال پریوپی سرکار سے جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس جوہری نےایڈوکیٹ جنرل سے جواب طلب کیا


ایڈوکیٹ تیواری نے عدالت کو بتایاکہ ملزمین کے خلاف 26 نومبر کو مقدمہ قائم کیا گیا جبکہ 28 نومبر 2020 کو اتر پردیش کے گورنر آنندی بین پٹیل نے ”غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020“ Uttar Pradesh Prohibition of Unlawful Conversion of Religion Ordinance, 2020 پر دستخط کیئے یعنی کے اس مقدمہ پر غیر قانونی طور پر اس قانون کا اطلاق کیا گیا، جس پر جسٹس جوہری نے عدالت میں موجود ایڈوکیٹ جنرل سے جواب طلب کیا، جس پر انہوں نے عدالت سے کہا کہ انہیں جواب داخل کرنے کا موقع دیں تاکہ مقدمہ کی فائل کا معائنہ کرنے کے بعد عدالت کو جواب دے سکیں۔


یوپی حکومت پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا الزام


ایڈوکیٹ او پی تیواری نے تقریباً ایک گھنٹے تک بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یو پی حکومت لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہے اور آئین ہند کے ذریعہ حاصل بنیاد ی حقوق کو اقتدار کے بل بوتے پر پامال کر رہی ہے، نیزلو جہاد کو غیرقانونی قرار دینے والے قانون کا سہارا لے کر اتر پردیش پولس مسلمانوں کو پریشان کررہی ہے اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہی ہے، جس کی ایک مثال یہ مقدمہ ہے، جس میں مسلم لڑکے کے والدین، قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ان کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، مسلم لڑکا اور ہندو لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور دونوں فی الحال کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم، لیکن لڑکی کے والد کی فریاد پر مقامی پولس نے دو خواتین سمیت دس لوگوں کو گرفتارکرلیا، جس کے بعد سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔
ایڈوکیٹ تیواری نے کہا کہ گرفتار شدگان شمشاد احمد، رفیق اسماعیل، جنید شاکر علی،محمد عقیل منصوری، اسرائیل ابراہیم، معین الدین ابراہیم، میکائیل ابراہیم، جنت الا براہیم، افسری بانو اسرائیل عثمان بقرعیدی اور چان بی بی کے خلاف قائم مقدمہ غیر آئینی بنیادوں پر ٹکا ہوا ہے جسے ختم کردینا چاہئے جس پر عدالت نے انہیں کہا کہ ریاستی حکومت کے جواب کی روشنی میں عدالت اس تعلق سے فریقین کی بحث کی سماعت کے بعد فیصلہ کرے گی۔ آج عدالت میں سینئر ایڈوکیٹ او پی تیواری کے ساتھ ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ فرقاق و دیگر موجود تھے۔




جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے قانون کو شہریوں کی آزادی اور خودمختاری پر ایک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط ہے۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے قانون کو شہریوں کی آزادی اور خودمختاری پر ایک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے آزادی اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے قانون کو شہریوں کی آزادی اور خودمختاری پر ایک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی آڑ میں ایک فرقہ کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی غرض سے نام نہادلوجہادکی آڑمیں قانون سازی آئین کے رہنمااصولوں کے خلاف ہے اور یہ قانون شہریوں کی آزادی اور خودمختاری پر ایک حملہ ہے جبکہ آئین میں ملک کے ہر شہری کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے بلکہ اسے اپنی پسند اور ناپسند کے اظہارکا بھی پورااختیاردیا گیاہے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کا اطلاق سب پر یکساں ہوگا، اور کسی فرقے کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتاجائے گالیکن اترپردیش جیسی اہم ریاست میں اس آئین مخالف قانون کا دھڑلے سے ایک مخصوص فرقہ کے خلاف استعمال ہورہا ہے، انہوں نے آگے کہا کہ حال ہی میں اسی طرح کے ایک معاملہ میں الہ آبادہائی کورٹ میں اترپردیش سرکارکی طرف سے جو حلف نامہ داخل کیا گیا ہے وہ اس افسوسناک سچائی کا آئینہ ہے، حلف نامہ میں دی گئی تفصیل کے مطابق اب تک جن 85لوگوں کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمے قائم کئے گئے ہیں ان میں 79مسلمان ہیں جبکہ دیگر عیسائی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 10, 2021 08:26 PM IST