உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covaxin Gets WHO Nod: بڑی خوش خبری! کوویکسین کو ملی ڈبلیو ایچ او کی منظوری، اب ہندوستانیوں کو کیسے ہوگافائدہ؟

    عالمی ادارہ صحت WHO کے تکنیکی مشاورتی گروپ نے ایک اہم ہندوستان ویکسین کوویکسین Covaxin کو ہنگامی استعمال کے لیے اپنی منظوری دے دی ہے۔ جسے بھارت بائیوٹیک Bharat Biotech نے تیار کیا ہے۔ (فوٹو: Bharat Biotech ٹوئٹر)

    عالمی ادارہ صحت WHO کے تکنیکی مشاورتی گروپ نے ایک اہم ہندوستان ویکسین کوویکسین Covaxin کو ہنگامی استعمال کے لیے اپنی منظوری دے دی ہے۔ جسے بھارت بائیوٹیک Bharat Biotech نے تیار کیا ہے۔ (فوٹو: Bharat Biotech ٹوئٹر)

    بھارت بائیوٹیک نے مئی میں عالمی ادارہ صحت کے جنیوا ٹیں واقع دفتر میں ہنگامی استعمال کی فہرست میں شمولیت کی درخواست جمع کرائی۔ 23 جون کو ڈبلیو ایچ او نے بھارت بائیوٹیک کے ساتھ پیشگی جمع کرانے کی میٹنگ کی۔ اس کے بعد اب دیوالی سے ایک دن قبل 3 نومبر 2021 کو منظوری مل گئی۔

    • Share this:
      عالمی ادارہ صحت WHO کے تکنیکی مشاورتی گروپ نے ایک اہم ہندوستان ویکسین کوویکسین Covaxin کو ہنگامی استعمال کے لیے اپنی منظوری دے دی ہے۔ جسے بھارت بائیوٹیک Bharat Biotech نے تیار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ اپنے ہنگامی استعمال کی فہرست (EUL) emergency use listing کے لیے ویکسین کو لائسنس دیتا ہے۔ اس نے 26 اکتوبر 2021 کو بھارت بائیوٹیک سے ای یو ایل کے لیے کوویکسین کی منظوری دینے سے قبل اضافی ڈیٹا طلب کیا تھا۔ اس پیشرفت سے واقف سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ ہفتے ڈیٹا جمع کرایا تھا۔

      اتنی دیر کیوں لگی؟

      ویکسین کے لیے ڈبلیو ایچ او کی منظوری کا طریقہ کار چار مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
      ۔1: مینوفیکچرر کی دلچسپی کے اظہار (EOI) کو قبول کرنا
      ۔2: ڈبلیو ایچ او اور مینوفیکچرر کے درمیان پیشگی میٹنگ
      ۔3: ڈبلیو ایچ او کے ذریعے تشخیص کے لیے خوراک کی منظوری

      ۔4: حتمی فیصلہ کا تجزیہ اور حتمی منظوری کا فیصلہ

      بھارت بائیوٹیک نے مئی میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے جنیوا ٹیں واقع دفتر میں ہنگامی استعمال کی فہرست (EUL) کی درخواست جمع کرائی۔ 23 جون کو ڈبلیو ایچ او نے بھارت بائیوٹیک کے ساتھ پیشگی جمع کرانے کی میٹنگ کی۔

      حیدرآباد میں واقع فارما کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایک بار بھارت بائیوٹیک مکمل کوویکسین فیز 3 کلینکل ٹرائلز کا ڈیٹا جمع کرائے گا، ڈوزیئر مکمل ہو جائے گا اور ہیلتھ باڈی کے ذریعہ جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔ اہلکار نے کہا تھا کہ کمپنی کو توقع ہے کہ کوواکسین کی EUL درخواست کے لیے جائزہ کا عمل جولائی میں افادیت کے مطالعہ کے اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔

      رپورٹس کے مطابق ہنگامی استعمال کی فہرست کے لیے درکار تمام دستاویزات 19 جولائی کو ڈبلیو ایچ او کو جمع کرائے گئے تھے۔ تاہم اس عمل میں مزید تاخیر اس وقت ہوئی جب کوویکسن کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے ’’ناکافی معلومات‘‘ کی بنیاد پر منظوری حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی۔ بھارت بائیوٹیک کے امریکی پارٹنر Ocugen نے بتایا کہ کمپنی کوویکسین کے لیے مکمل منظوری حاصل کرے گی۔ FDA نے کمپنی پر ایک اضافی ٹرائل کرنے کی بھی تاکید کی تاکہ وہ بائیولوجکس لائسنس کی درخواست (BLA) کے لیے فائل کر سکے، جس کی مکمل منظوری ہے۔

      طویل انتظار کے بعد یہ نومبر کے شروع میں عمل میں آسکا۔ ہندوستان میں دیوالی منانے سے ایک دن پہلے مقامی طور پر تیار کردہ کووِڈ ویکسین کو EUL منظوری مل گئی۔

      ہندوستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

      بین الاقوامی سفری آسانی سے لے کر دیسی ویکسین کی برآمد تک ایک ملک کے طور پر ہندوستان کو WHO کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی منظوری سے کافی فائدہ ہونے کا امکان ہے۔

      دنیا بھر میں کووڈ کیسز میں کمی کے رجحان کی وجہ سے بہت سے ممالک نے اپنی سفری پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے ہندوستان سمیت متعدد ممالک سے مکمل طور پر ٹیکے لگوانے والے باشندوں کے داخلے پر عائد پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک جیسے گیانا، ایران، ماریشس، میکسیکو، نیپال، پیراگوئے، فلپائن، زمبابوے، ایسٹونیا (جس نے اپنے ویکسین پاسپورٹ کے لیے ویکسین کی منظوری دے دی ہے) پہلے ہی Covaxin کی منظوری دے چکے ہیں، WHO کی منظوری سے آج بہت سے دوسرے ممالک شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھولیں گے۔ اس کے علاوہ اس سے ان ہندوستانیوں کے لیے سفر میں آسانی پیدا ہونے کا بھی امکان ہے جو تعلیم، کام یا دیگر ذاتی مقاصد کی وجہ سے سفر کرنا چاہتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: