உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covaxin: کیا کوویکسین اومی کرون ویرینٹ کے خلاف ہوگی زیادہ موثر؟ کیا کہتے ہیں ICMR کے افسر؟

    سی ایم کے مطابق سماجی دوری اور ویکسینیشن کو اولین ترجیح کے طورپر عمل کیا جانا چاہیے۔

    سی ایم کے مطابق سماجی دوری اور ویکسینیشن کو اولین ترجیح کے طورپر عمل کیا جانا چاہیے۔

    آئی سی ایم آر کے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ کوویکسین دیگر دستیاب ویکسینوں کے مقابلے اومی کرون کے خلاف زیادہ موثر ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ پورے وائرس کا احاطہ کرتا ہے اور حالیہ انتہائی تبدیل شدہ نئے ویرینٹ کے خلاف کام کر سکتا ہے۔

    • Share this:
      ملک کا مایہ ناز سائنسی ادارہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے ایک افسر نے کہا ہے کہ بھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) کی کووِڈ ویکسین کوویکسین (Covaxin) عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے نئے ویرینٹ اومی کرون (Omicron) کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

      آئی سی ایم آر کے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ کوویکسین دیگر دستیاب ویکسینوں کے مقابلے اومی کرون کے خلاف زیادہ موثر ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ پورے وائرس کا احاطہ کرتا ہے اور حالیہ انتہائی تبدیل شدہ نئے ویرینٹ کے خلاف کام کر سکتا ہے۔

      مذکورہ افسر نے کہا ہے کہ کوویکسین کو دیگر ویرینٹ جیسے کہ الفا، بیٹا، گاما اور ڈیلٹا کے خلاف بھی موثر پایا گیا۔ لہٰذا ہم توقع کر سکتے ہیں کہ یہ نئے ویرینٹ کے خلاف بھی کارگر ثابت ہوگا۔ انھوں نے حفاظتی اقدمات سے سستی برتنے کے خلاف خبردار کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تحقیق جاری ہے اور اعداد و شمار کا انتظار ہے۔

      علامتی تصویر
      علامتی تصویر


      انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس سے تحفظ فراہم کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ایک بار جب ہم نمونے حاصل کر لیتے ہیں، تو ہم پونے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (NIV) میں ویکسین کی افادیت کی جانچ کریں گے‘‘۔

      رپورٹ میں کمپنی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ ویکسین ووہان میں دریافت ہونے والی اصل قسم کے خلاف تیار کی گئی تھی اور اس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دیگر ویرینٹ کے خلاف کام کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ابھی مزید تحقیق جاری ہے۔

      واضح رہے کہ ایمس کے سربراہ ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے پہلے کہا تھا کہ اومیکرون میں اسپائیک پروٹین میں 30 سے ​​زیادہ تغیرات (mutations) ہیں، جو اسے مدافعتی فرار کا طریقہ کار تیار کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیے ویکسین کی افادیت کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے۔

      گلیریا نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’اسپائیک پروٹین کی موجودگی میزبان سیل (host cell) میں وائرس کے داخلے میں مدد کرتا ہے، جو کہ قابل منتقلی اور انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ چونکہ زیادہ تر ویکسین (کام کرکے) اسپائک پروٹین کے خلاف اینٹی باڈیز بناتے ہیں، اسی لیے اسپائک پروٹین کے علاقے میں بہت سے تغیرات ویکسین کی افادیت میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔


      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: