ہوم » نیوز » وطن نامہ

COVID-19  اور بچے : اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں

لوگوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ  COVID-19کی تیسری لہر بچوں کو متاثر کرے گی۔ مستقبل میں اس صورتحال سے نپٹنے کیلئے، ڈاکٹروں اور حکومتی افسران تیسری لہر کی تیاری کو مضبوطی عطا کر رہے ہیں۔

  • Share this:
COVID-19  اور بچے : اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں
COVID-19  اور بچے : اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں

COVID-19 کسی بچوں اور نوزائیدہ بچوں سمیت کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہر چند کہ COVID-19 نے بچوں کو کم متاثر کیا ہے، لیکن متاثر ہونے پر، ان میں یا تو علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں یا بہت ہلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں بچوں میں COVID-19 کے ایسے سنگین معاملات بہت کم دیکھے گئے ہیں جن میں انہیں اسپتال داخل کرنے کی ضرورت پڑے۔1


لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ COVID-19 کی تیسری لہر بچوں کو متاثر کرے گی۔ تاہم، اس تھیوری کو سپورٹ کرنے کیلئے اب تک سائنسی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔2 جیسا کہ پہلی لہر میں ہوا تھا، بزرگ افراد زیادہ متاثر ہوئے تھے، دوسری لہر میں بہت سے نوجوان متاثر ہوئے۔ اسلئے یہ مانا جا رہا ہے کہ تیسری لہر میں بچے متاثر ہوں گے۔ لوگوں میں یہ خوف بھی پایا جاتا ہے کہ چونکہ بچوں کو ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی ہے، اسلئے وہ زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس صورتحال سے نپٹنے کیلئے، ڈاکٹر اور حکومتی افسران تیسری لہر کیلئے COVID-19 کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔


بچوں میں COVID-19 کی علامات


نوعمر بچوں کے گروپ میں COVID-19 کے نظم و نسق سے متعلق وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی گائیڈلائنز کے مطابق، بچوں میں انفیکشن کی عام ترین علامات میں سردی، ہلکی کھانسی، بخار، بدن درد، کمزوری اور ان کے علاوہ، پیٹ میں درد، دست، قے، بُو یا ذائقے کا احساس ختم ہونا شامل ہے۔ بچوں میں COVID-19کی جلد تشخیص اور علاج اہم ہے۔3

یہ جاننے کیلئے کہ بچہ COVID-19 سے متاثر ہے یا نہیں، بچے کی جانچ کروانا اہم ہے۔ اگر بچہ خاندان میں کسی COVID-19 مثبت مریض کے رابطے میں آیا ہے یا اس میں COVID-19کی علامات ہیں یا بچے کو تین دن سے زیادہ دنوں سے بخار ہے، تو ڈاکٹر سے طبی صلاح لیں اور بچے کی جانچ کروا کے اسے گھر میں تنہائی میں رکھیں۔

COVID-19 مثبت بچوں کا نظم و نسق

اگر کسی بچے کو مثبت پایا جاتا ہے، تو اسے فوری طور پر خاندان کے دیگر لوگوں سے علیحدہ ایک کمرے میں تنہا رکھنا اہم ہے (اگر ممکن ہو)۔ فوری طور پر طبی مشورہ لیں۔ خاندان کو چاہئے کہ وہ بچے کے ساتھ کالز یا ویڈیو کے ذریعے رابطے میں رہیں اور اس سے مثبت باتیں کریں۔

اگر بچہ/بچے اور اس کی والدہ دونوں کو COVID-19 لاحق ہے، تو بچہ اپنی والدہ کے ساتھ اس وقت تک رہ سکتا ہے جب تک اس کی والدہ اتنی زیادہ بیمار نہ ہو جائے کہ وہ اس کی دیکھ بھال نہ کر سکے اور اسپتال داخل ہو جائے۔ جب تک ممکن اور آسان ہے، والدہ بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں، جہاں صرف والدہ ہی COVID-19 مثبت ہے اور اسے اسپتال داخل نہیں کیا گیا ہے اور وہ بہت بیمار ہے، لیکن بچہ منفی ہے اور اس کی نگہداشت کیلئے کوئی دستیاب نہیں ہے، تو والدہ اپنے بچوں کا خیال رکھ سکتی ہے۔ تاہم، ایسا کرتے ہوئے اسے سینیٹائزیشن کے بہترین اقدامات کرنے چاہئیں اور اچھی طرح ماسک پہننا چاہئے۔

بچوں میں ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سنڈروم (MIS-C) 4

بچوں میں COVID-19 کے نظم و نسق کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف جنرل ہیلتھ سروسز (DGHS) کے مطابق، COVID-19 سے بحال ہونے کے 2 تا 6 ہفتوں بعد بچوں میں ملٹی سسٹم انفلیمیٹری سنڈروم (MIS-C) کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ بچوں میں MIS-C کی عام علامات میں دل، پھیپھڑے، گردے، دماغ، جلد، آنکھوں یا نظام ہضم سمیت جسم کے حصوں میں سوزش شامل ہے۔ ان میں بخار، پیٹ درد، قے، دست، سرخ نشان، آنکھوں میں سرخی، کنفیوژن، چونکنا، کنجنکٹیوائٹس یا تھکن کے احساس جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ MIS-C کے سبب کا علم نہیں ہے۔ تاہم، MIS-C کے حامل کئی بچے پہلے COVID-19 سے متاثر ہو چکے ہیں۔ جلدی تشخیص اور طبی نگہداشت اور علاج بچوں میں MIS-C کی سنگین پیچیدگیوں کو کم کر سکتا ہے۔

بھارت اور دیگر ممالک میں بچوں کیلئے COVID-19 ویکسین

فی الوقت بھارت میں، ویکسینیں صرف بالغوں کو لگائی جا رہی ہیں۔ بچوں (2 برس سے زیادہ عمر کے بچوں کیلئے) میں Covaxin کا ٹرائل (مرحلہ II/III) جاری اور نو عمر بچوں کیلئے ویکسین بھی پروسیس میں ہے5۔ کچھ ممالک میں پہلے ہی سے 12 برس اور اس سے بڑی عمر کے بچوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ 12 تا 15 برس اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں میں Pfizer-BioNTech کے کامیاب کلینیکل ٹرائل کے بعد، 12 برس اور اس سے زیادہ عمر کے تمام بچوں کیلئے ویکسین دستیاب کروا دی گئی ہے۔6

COVID-19 کے امراض سے روک تھام

فی الوقت، بچوں کو COVID-19 سے بچانے کا بہترین طریقہ COVID-19 کیلئے مناسب برتاؤ کو اپنانا ہے، جیسے جسمانی فاصلہ رکھنا، عمر کے لحاظ سے مناسب ماسک پہننا، صابن سے ہاتھ دھونا یا الکحل پر مبنی ہینڈ رب استعمال کرنا۔ بچوں میں COVID-19 کے نظم و نسق کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف جنرل ہیلتھ سروسز (DGHS) کے مطابق، پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، 6 تا 11 برس کے بچوں کو والدین کی نگرانی میں ماسک پہننا چاہئے اور 12 برس اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو ماسک پہننا چاہئے۔7

کسی بھی مرض سے لڑنے کی خاطر امیون سسٹم کو مضبوط رکھنے کیلئے، سبزیوں اور پھلوں سمیت صحت مند اور غذائیت سے بھر پور کھانے کھانا اور ہائیڈریشن کو برقرار رکھنا اہم ہے۔ 6 ماہ سے کم عمر بچوں کیلئے، خاص طور پر والدہ کا دودھ ان کی صحت کیلئے بہترین نیوٹریشن ہے۔ 6 ماہ کے بعد، بچوں کو ماں کے دودھ کے ساتھ اعزازی خوراک دی جا سکتی ہے۔ بچوں کو معمول کے مطابق ٹیکے لگوائے جانے چاہئیں۔

بچوں میں ذہنی صحت کی اہمیت

والدین کیلئے لازمی ہے کہ وہ COVID-19 کے دوران بھی بچے کی ذہنی صحت کا دھیان رکھیں۔ COVID-19 نہ صرف یہ کہ بچوں کی جسمانی صحت کو متاثر کر سکتا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جس سے ان میں تناؤ، چڑچڑاپن، دباؤ، بے چینی اور دیگر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ والدین ضرورت پڑنے پر بچوں کو یقین دہانی کر کے اور ان کے ساتھ معیاری وقت گزار کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ وہ ورچوئل طور پر ان کے دوستوں کے ساتھ منسلک کر کے اور ان کے ساتھ انڈور سرگرمیوں میں مشغول ہو کر بھی ان کی مدد کر سکتے ہیں۔8

رینوکا برگوڈیا،

کوآرڈنیٹر، کمیونٹی انویسٹمنٹ،

یونائیٹیڈ وے ممبئی

حوالہ جات

 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 30, 2021 03:58 PM IST