ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ ہمدرد نے تیز ترین کورونا ٹسٹ کٹ دریافت کی ، منظوری کیلئے آئی سی ایم آر کے پاس بھیجی گئی

جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر اور ڈی این اے تحقیق کے بڑے سائنسداں پروفیسر احتشام حسنین نے اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ آئی سی ایم آر کے پاس ریسرچ کی تمام تفصیلات بھیجی جاچکی ہیں ۔ تاکہ اس کٹ کو منطوری مل سکے ۔

  • Share this:
جامعہ ہمدرد نے تیز ترین کورونا ٹسٹ کٹ دریافت کی ، منظوری کیلئے آئی سی ایم آر کے پاس بھیجی گئی
جامعہ ہمدرد نے تیز ترین کورونا ٹسٹ کٹ دریافت کی ، منظوری کیلئے آئی سی ایم آر کے پاس بھیجی گئی

ہندوستان نے تیز ترین کورونا ٹسٹ کٹ دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان میں تیزی سے کورونا کیسوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور پورے میں ملک میں چالیس سے لاکھ سے زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آچکے ہیں تو وہیں کورونا کو ہرانے کے لئے سائنسداں دن رات ریسرچ و تحقیق کے کام میں لگے ہیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وائرس کا پتہ لگانے کے لئے اب تیز ترین کورونا ٹسٹ کٹ دریافت ہوئی ہے ۔ یہ کارنامہ جامعہ ہمدرد کے سائنس دانوں نے انجام دیا ہے ۔ اس اینٹی جن کٹ کے ذریعہ صرف ایک گھنٹے میں تین سو ٹسٹ کئے جاسکیں گے اور ان کا نتیجہ صرف بیس منٹ میں حاصل کیا جاسکے گا کہ آخر آپ کورونا مثبت ہیں یا نہیں ۔


کٹ کو منظوری کیلئے آی سی ایم آر کو بھیجا گیا


جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر اور ڈی این اے تحقیق کے بڑے سائنسداں پروفیسر احتشام حسنین نے اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ آئی سی ایم آر کے پاس ریسرچ کی تمام تفصیلات بھیجی جاچکی ہیں ۔ تاکہ اس کٹ کو منطوری مل سکے ۔


 ٹسٹ کٹ کی 90 فیصد ایکوریسی بڑی خاصیت

ہمدرد کے ذریعہ تیار کی گئی ٹسٹ کٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹسٹ کی ایکوریسی تقریبا 90 فیصد سے زیادہ ہے ۔ یعنی جو ریزلٹ آیا ہے وہ حقیقی معنوں میں درست ہے ۔ دوسری جانب اس ٹسٹ کٹ میں تحفظ کا خاص طورپر خیال رکھا گیا ہے ۔ کٹ میں مریض کا لعاب ایک ٹیوٹ کے ذریعہ پہنچایا جاتا ہے ، جس کے بعد بیس منٹ چند سیکنڈ میں ریزلٹ آجاتا ہے ۔ یہ ایک تیز ترین ریزلٹ ہے ، کیونکہ دوسرے طریقوں سے ٹسٹ کرنے میں کافی زیادہ وقت لگتا ہے ۔ اس طرح کی کٹ ہندوستان جیسے بڑی آبادی والے ملک کے لئے کافی اہم ہے ۔ کیونکہ روزانہ دس لاکھ سے زیادہ ٹسٹ کئے جارہے ہیں ۔ صرف دہلی میں ہی حال ہی میں کورونا کے کیسوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے اور راجدھانی میں چالیس ہزار سے زیادہ کورونا ٹسٹ کئے جارہے ہیں ۔

ہمدرد کے ذریعہ تیار کی گئی ٹسٹ کٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹسٹ کی ایکوریسی تقریبا 90 فیصد سے زیادہ ہے ۔
ہمدرد کے ذریعہ تیار کی گئی ٹسٹ کٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹسٹ کی ایکوریسی تقریبا 90 فیصد سے زیادہ ہے ۔


قومی اور عالمی سطح پر بڑھا یونیورسٹی کا قد

ہمدرد یونیورسٹی کا میڈیکل شعبہ قومی اور عالمی سطح پر کافی نام کما چکا ہے ۔ ہمدرد یونیورسٹی کو این آئی آر ایف کے تحت 21 ویں رینک ملی ہے تو گزشتہ دو سالوں سے یونیورسٹی کا فارمیسی اولین مقام حاصل کررہا ہے ۔ جبکہ حال ہی میں ٹائمس ورلڈ ہایئر یونیورسٹی ایجوکیشن رینکنگ میں ہمدرد یونیورسٹی کو 800-1000 کے درمیان جگہ دی گئی ہے ۔ حالانکہ پہلی بار ہی اس رینکنگ کے لئے ہمدرد نے درخواست دی تھی ۔ یونیورسٹی کے بڑھتے قد کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی جہاں ڈی آر ڈی او ریسرچ کے ساتھ کام کررہی ہے تو گزشتہ سال 4000 سیٹوں کے لئے چالیس ہزار امیدواروں نے داخلہ فارم بھرا تھا ۔ نیز بی فارمہ کی کٹ آف 94 اور بی ایس سی ، ایم ایس سی بایو ٹکنالوجی کی کٹ آف 92 پر ہی رک گئی تھی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 06, 2020 08:44 AM IST