ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین کی کورونا وائرس پر نئی تحقیق ، ملے گی روک تھام میں مدد 

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر عرفان قریشی کی قیادت میں ہوئی ریسرچ سے سنگین زمرہ کے مریضوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی ۔

  • Share this:
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین کی کورونا وائرس پر نئی تحقیق ، ملے گی روک تھام میں مدد 
جامعہ کےطلباء کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کئے جانے پر تنازعہ

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہندوستانی مسلمانوں اور محقین بڑا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جہاں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر احتشام کے ذریعہ کرونا وائرس کے ڈی این اے کو لے کر نئی تحقیق پچھلے دنوں سامنے آئی تھی ، تو وہیں اب اب دوسری مسلم اقلیتی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی اب کرونا وائرس کو لے کر نئی ریسرچ کے ذریعہ علاج کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حالانکہ ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے ۔ تاہم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر عرفان قریشی کی قیادت میں ہوئی ریسرچ سے سنگین زمرہ کے مریضوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی ۔ اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے باضابطہ ایک پریس نوٹ بھی جاری کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق یہ ریسرچ کافی اہم ہے ۔


دراصل کووڈ 19 بیماری سانس لینے کے کورونا وائرس 2 (سارس کووڈ 2) کی وجہ سے ہے  ، جو اب تک 5.3 ملین سے زائد افراد کو متاثر کرچکی ہے اور دنیا بھر میں تین لاکھ چالیس ہزار اموات کا سبب بن چکی ہے۔  ایک کامیاب تحقیق میں وائٹل کو کمپیوٹیشنل سائنس کے ذریعہ منسلک کیا گیا ہے ۔  یہ مطالعہ محکمہ بایوٹیکنالوجی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر محمد عرفان قریشی اور برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے کلینیکل اینڈ تجرباتی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر محمد عاصم نے کیا ہے ۔  آئی ڈی 3605888 کے ساتھ تحقیقی مضمون کو انتہائی نامور ایلسیویر پبلشرز نے بائیولوجی ریسرچ نیٹ ورک (ایس ایس آر این) کے پورٹل پر اپ لوڈ کیا ہے ۔

ڈاکٹر ایم عرفان قریشی وضاحت کرتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس 2 میں نئے تغیرات کا تجزیہ کررہے تھے ۔  اسپائک ، جو وائرس اور انسانوں کے مابین ایک مؤثر تعلق قائم کرتا ہے ، یہ تعلق واقعتا بعد میں انفیکشن کا باعث بنتا ہے ۔  انفیکشن اسی وقت ہوگا ، جب وائرس اور انسانوں کی سطح سے سطح کی مطابقت فیصلہ کن ہو ۔ دوسرے مہلک وائرس کے ساتھ کورونا اسپائیک گلائیکو پروٹین کے تقابلی مطالعہ میں ہم نے 4 امینو ایسڈ کی موجودگی کو دیکھا ، جو مشکوک نظر آئی ۔  زیادہ تر خطرناک وائرسیز کی سطح پروٹینوں میں سرین پروولین ارجنائن(ایس پی آر آر) کے گروپ نمودار ہوئے ۔ ڈاکٹر قریشی کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار امینو ایسڈ گروپ بہت سارے وائرسوں میں اعلی سطح کی بیماریوں کے لگنے کی علامت ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں یہ وائرس جن کی سطح پر یہ چار مشتبہ امینو ایسڈ ہوں گے ، وہ انتہائی متعدی لگتے ہیں۔


 عام طور پر وائرل سبسٹریٹ کو فرائن نامی ایک انزایم کے ذریعہ متحرک کرنے کے لئے کارروائی کی جاتی ہے ، جو ایک پروپٹین کنورٹیسیس ہے ۔  ایس پی آر آر کو براہ راست انسانوں میں انفیکشن کی سہولت فراہم کرنے کے لئے فرین کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ انسانی فیوژن ، یا ایس پی آر آر پر مبنی وائرس کو چالو کرنے کے لئے خاص طور پر ایک  مخصوص طریقہ کار فرین کی صورت میں موجود ہے ، لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور آنے والے وقت میں اس پر مزید تحقیق ہوگی  ۔ اگر یہ فرین نہیں ہے تو اس کا بھی بھی پتہ لگایا جائے گا ۔  ڈاکٹر قریشی کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق آپ کو مہلک وائرس کے خلاف موثر علاج کرنے اور بیماریوں کے انفیکشن کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرے گی ۔ مزید مطالعات ایس پی آر آر کو روکنے کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کریں گی اور فرین ولیویوج میکانزم کی نئی وضاحت کرسکتی ہیں ۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ٹیٹرا پٹائڈ ایس پی آر آر گروپ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سارے وائرسوں کے ذریعہ اپنایا گیا ہے ۔ شاید یہ قدرتی تغیرات کی وجہ سے ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس بی وائرس میں کیپسڈ پروٹین ایس پی آر آر کے 3 میکانیزم اسٹرکچر  پر مشتمل ہے ، جو سب فرین وپاور سائٹوں کے مالک ہیں ۔ لیکن مکمل طور پر طے شدہ قواعد پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔ ہیپاٹائٹس بی کے مختلف آئیسولییٹڈ وائرس کا تجزیہ کیے جانے پر یہ بات سامنے آئی ہے  کہ لایسن کو آرگینک کے ذریعہ بنائے جانے کاخطرہ ہے۔  یہ ٹیٹراپٹائڈ گروپس ہیپاٹائٹس سی ، ایچ آئی وی 1 سب ٹائپ سی ، ڈینگی وائرس 1 ، چکن گنیا وائرس ، زائر ایبولا وائرس ، زیکا وائرس اور دیپینڈوائرس وغیرہ کے اہم پروٹینوں میں موجود ہیں ۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ ایس پی آر آر گروپس پورکین وبائی اسہال وائرس ڈائریا  (پی ای ڈی وی) ، ایویئن متعدی برونکائٹس وائرس ، کورونو وائرس HK9 / KY6 / HKU12-600 وغیرہ کے گلائیکوپروٹین اسپائک میں بھی موجود ہیں ۔

اس مطالعہ میں بڑا ہدف یہ ہے کہ ایسے 50 جانداروں کی فہرست مرتب کرنا جو کورونا وائرس کے لئے زیادہ متاثرکن ہیں اور انہیں شدید خطرہ ہے۔ ڈاکٹر قریشی کے مطابق ہمیں یقین ہے کہ اس دریافت سے ایس پی آر آر کے نمونوں اور اس کی علامات کی نشاندہی کی بنیاد پر کووڈ 19 بیماری پر قابو پانے اور علاج میں نمایاں مدد ملے گی ۔ ہم اس تحقیق کو ان سب لوگوں کے لئے وقف کرتے ہیں ، جنہوں نے COVID-19 بحران کی وجہ سے ایک طرح سے یا کسی اور طرح سے تکلیف کا سامنا کیا ہے اور اسے ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی عید کے تحفہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ جامعہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے خوشی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر ایم عرفان قریشی کو اس اہم تحقیق پر مبارکباد پیش کی ۔  انہوں نے مزید تحقیق کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ جامعہ میں ہمیشہ عالمی معیار کی تحقیق کو فروغ دیں گی ۔
First published: May 25, 2020 06:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading