ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

COVID-19 کی تیسری لہر کا خطرہ اور تیز رفتار امیونائزیشن کی ضرورت

ماہرین نے ہندوستان میں ایک تیسری لہر کی وارننگ دی ہے۔ کچھ لوگوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ تیسری لہر کا آغاز محض 6 تا 8 ہفتوں میں شروع ہو سکتی ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ستمبر تا اکتوبر میں اس کی آمد کا خدشہ زیادہ ہے۔

  • Share this:
COVID-19 کی تیسری لہر کا خطرہ اور تیز رفتار امیونائزیشن کی ضرورت
COVID-19 کی تیسری لہر کا خطرہ اور تیز رفتار امیونائزیشن کی ضرورت

28 جون تک، بھارت میں COVID-19 ویکسین کی 32,36,63,297 خوراکیں لگائی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین کی خوراکیں لگانے کے معاملے میں ہم نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ویکسینیشن کا آغاز اس سال 16 جنوری سے ہوا جبکہ امریکہ میں اس کا آغاز گزشتہ برس 14 دسمبر کو ٹیکے لگانے کا آغاز ہوا۔ یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے، خاص طور پر ملک میں پھیلنے والی تباہ کن دوسری لہر اور عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے اس کے بیش بہا اثرات کے سیاق و سباق میں۔ تاہم، کل اہل آبادی کے مقابلے میں ویکسین کئے گئے لوگوں کی تعداد کا تناسب کم ہی رہا ہے۔


ماہرین نے ہندوستان میں ایک تیسری لہر کی وارننگ دی ہے۔ کچھ لوگوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ تیسری لہر کا آغاز محض 6 تا 8 ہفتوں میں شروع ہو سکتی ہے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ستمبر تا اکتوبر میں اس کی آمد کا خدشہ زیادہ ہے۔ تیسری لہر کے وقت اور شدت کا دار و مدار وائرس کی میوٹیشن اور منتقلی، انسانی برتاؤ اور ویکسینیشن کی سطح پر ہوتا ہے۔ ٹائم لائن کے برخلاف، تیسری لہر، اور مزید کچھ ممکنہ لہروں کی آمد یقینی ہے اور  حکومت، شہریوں، مہذب معاشرے کی تنظیموں اور صنعتوں کو  اس کیلئے تیار ہونا چاہئے۔


ہمیں دنیا بھر میں دیکھنے لائق مستقبل کیلئے ان لہروں سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس سے لڑنے کا واحد ہتھیار ویکسینیشن ہے۔ COVID-19 ویکسینز کی مدد سے، ویکسین، مقام اور وائرس کے ویریئنٹ کے انفیکشن اور منتقلی کے باوجود ویکسینیں زندگیاں بچاتی ہیں۔ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ ویکسین لگوانے والے لوگوں کو اسپتال داخل کرنے کا خدشہ کم ہوتا ہے، بھلے ہی اس شخص نے صرف پہلی خوراک ہی کیوں نہ لی ہو۔ جزوی تحفظ، قطعی طور پر تحفظ نہ ہونے سے بہتر ہے۔ یقیناً، یہ کئی معاملات میں زندگی اور موت کے درمیان کا فرق پیدا کرتا ہے۔


ہندوستان میں ویکسینیشن کی کم شرحیں اور ڈیلٹا سب لائنیجز تشاویش کا باعث ہیں۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ابھی ہم نے 0 تا 18 برس کے لوگوں کی ویکسینیشن شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ تیز رفتار ویکسینیشن کے بغیر ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کا امکان نہیں ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ اس کی رفتار میں اضافہ کیا جائے، خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جو نجی اداروں سے ویکسینیشن کا خرچ برداشت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ حکومت کے ذریعے مفت ویکسینیشن تک رسائی اب بھی ان لوگوں کیلئے چیلنج ہے جو دور افتادہ دیہی علاقوں اور شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دسترس کی کمی، ویکسین لگوانے میں جھجھک اور بیداری کی سطح میں کمی ایسے چیلنجز ہیں جن پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔

اس وقت جبکہ ویکسینیشن کی مدت کی اثر پذیری کا تعین کرنے کا عمل جاری ہے، ہمیں مستقبل کی آنے والی لہروں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے تیز اور موثر امیونائزیشن ڈرائیوز کیلئے عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا چاہئے۔ ایسا بنیادی ڈھانچہ اور پروسیس مستقبل میں بوسٹر خوراکوں کیلئے زیادہ تیز اور موثر کوَریج میں مدد کرے گا جس کی شاید مختلف وقفوں میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس لڑائی کا ایک اہم پہلو صفِ اول کے ان ہیلتھ ورکرز کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے جو کمیونٹیز کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں۔ آنگن واڑی ورکرز، ایکریڈیٹیڈ سوشل ہیلتھ ایکٹیوسٹ (ASHA) اور آکزیلری نرس مڈ وائف (ANM) ورکرز COVID-19 کے خلاف لڑنے والے ایسے ہیرو ہیں جن کی ستائش نہیں کی گئی ہے۔ وہ معاشرے میں موجود لوگوں کو ویکسینیشن کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، انہیں آمادہ کرتے ہیں اور ٹیکے لگواتے ہیں اور جامع کوَریج کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ وہ بہتر صلاحیت کے حامل ہیں اور انہیں لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے ضروری معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔

ویکسینیشنز زندگی کو معمول پر لانے کا واحد طریقہ ہیں۔ اور جب تک سارے لوگوں کو ویکسین نہ لگ جائے، تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سبھی ویکسین لگوائیں اور اپنے اطراف موجود دیگر لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔

انل پرما



نائب صدر ، کمیونٹی انویسٹمنٹ، یونائٹیڈ وے ممبئی
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 08, 2021 03:54 PM IST