உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوویڈ معاوضہ رقم: تلنگانہ-گجرات میں امواتیں کم دعوے زیادہ، ریاستوں نے SC کو دیا ڈیٹا

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    حالانکہ کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں حکومت کو ملے دعووں کی تعداد موت کے سرکاری اعدادوشمار سے کم ہیں۔ معاوضہ اسکیم کے بارے میں کم جانکاری اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ عدالت نے دسمبر میں سبھی ریاستوں کو حکم دئیے تھے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کو معاوضے کے بارے میں جانکاری دی جائے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ریاستوں نے کوویڈ-19 سے جان گنوانے والے لوگوں کے افراد خاندان کو معاوضے سے جڑا ڈیٹا سپریم کورٹ میں داخل کیا ہے۔ اعدادوشمار سے پتہ چلاہے کہ کئی ریاستوں میں اموات کی سرکاری تعداد سے زیادہ معاوضہ کے لئے دعوے کیے گئے ہیں۔ تلنگانہ اور گجرات جیسی ریاستوں میں یہ فرق قریب 9 اور 7 گنا زیادہ ہے۔ دونوں معاملوں میں سب سے بڑا فرق مہاراشٹر میں نظر آیا ہے۔

      عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کی گئی گائیڈلائنسکی وجہ سے عام طور پر دعوں کی تعداد سرکاری تعداد سے زیادہ ہونے کا اندازہ تھا۔ دراصل، عدالت کے مطابق، اگر کوویڈ پازیٹیو ہونے کے 30 دنوں کے اندر کسی شخص نے خودکشی بھی کرلی ہے، تو اُسے کوویڈ ڈیٹھ یعنی کورونا سے ہوئی موت مانا جائے گا۔

      اعدادوشمار کے مطابق، گجرات میں 89 ہزار 633 دعوے حاصل کیے گئے ہیں جب کہ موت 10 ہزار 94 ہے۔ ریاست نے اب تک 68 ہزار 370 دعووں کو قبول کیا ہے اور 58 ہزار 840 افراد خاندان کو معاوضہ کی رقم بھیج بھی دی ہے۔

      تلنگانہ میں امواتوں کے اعدادوشمار 3 ہزار 993 تھے، جس کے مقابلے میں قریب 29 ہزار دعوے حاصل کیے گئے۔ ریاست نے 15 ہزار 270 دعووں کو منظوری دی ہے۔ مہاراشٹر میں دعووں کا آنکڑا 2.13 لاکھ پر پہنچ گیا اور امواتیں 1.41 لاکھ ہوئی ہیں۔

      حالانکہ کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں حکومت کو ملے دعووں کی تعداد موت کے سرکاری اعدادوشمار سے کم ہیں۔ معاوضہ اسکیم کے بارے میں کم جانکاری اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ عدالت نے دسمبر میں سبھی ریاستوں کو حکم دئیے تھے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کو معاوضے کے بارے میں جانکاری دی جائے۔ گجرات حکومت کے ایڈورٹائزمنٹ کرانے کے فیصلے کی بھی عدالت نے تعریف کی تھی اور ریاستوں کو تشہیر کے لئے اسی طرح کے فارمیٹ کا استعمال کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔

      عدالت نے پہلے یہ صاف کردیا تھا کہ وہ کوویڈ سے امواتوں کے کم اعدادوشمار کی رپورٹ پر پرتشویش نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان کا دھیان اس بات پر ہے کہ لوگوں کو راحت ملنی چاہیے اور حکومتوں کو اس مقصد کی جانب کام کرنا چاہیے۔ مرکز کی طرف سے دستیاب کرائے گئے ڈیٹا میں کئی ریاستوں میں دعووں کی تعداد سرکاری امواتوں کے اعدادوشمار سے کم ہے۔ ان میں آسام، ہریانہ، کرناٹک، پنجاب اور راجستھان کا نام شامل ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: