உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron: کیا کووی شیلڈ، کوویکسین اورزائکو۔ڈی ویکسین نئےویرینٹ کے خلاف موثر ہوگی؟ ابھی ڈیٹا کا انتظار

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا۔

    اومی کرون پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے سابق سائنسدان ڈاکٹر رمن گنگا کھیڈکر (Dr Raman Gangakhedkar) نے نیوز 18 کو بتایا کہ ویکسین کورونا وائرس SARS-CoV-2 کے نئے ’بھاری تبدیل شدہ‘ ویرینٹ کے خلاف صرف جزوی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

    • Share this:
      سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (Serum Institute of India)، بھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) اور زیڈس کیڈیلا (Zydus Cadila) کے ذرائع نے نیوز 18 ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہندوستانی ویکسین بنانے والے فارما سیٹیکل کمپنیاں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے نئے ویرینٹ اومی کرون (Omicron) کے رویے کو سمجھنے کے لیے مزید ڈیٹا کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی ویکسین کی افادیت کا اندازہ لگانا شروع کر دیا ہے۔

      تاہم وہ سب ان ممالک سے مزید ڈیٹا کا انتظار کر رہے ہیں، جہاں نئے ویرینٹ کا پتہ لگایا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اس بات کی تصدیق کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کہ آیا یہ ویکسین نئے ویریئنٹ کے خلاف موثر ہوگا یا نہیں۔ اومی کرون پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے سابق سائنسدان ڈاکٹر رمن گنگا کھیڈکر (Dr Raman Gangakhedkar) نے نیوز 18 کو بتایا کہ ویکسین کورونا وائرس SARS-CoV-2 کے نئے ’بھاری تبدیل شدہ‘ ویرینٹ کے خلاف صرف جزوی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

      ویکسین کی تیاری کے لیے ڈینا کا انتظار ہے۔
      ویکسین کی تیاری کے لیے ڈینا کا انتظار ہے۔


      منگل کے روز امریکی ویکسین بنانے والی کمپنی موڈرنا (Moderna) کے چیف نے کہا کہ کووڈ۔19 کی ویکسین اومی کرون کے خلاف اتنی موثر ثابت نہیں ہوسکتی ہیں، جتنی وہ ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف موثر ہے۔ واضح رہے کہ اومی کرون ویرینٹ کو عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے ’’تشویش کی باعث قسم‘‘ قرار دیا تھا۔

      دریں اثنا اعلیٰ حکام نے News18.com کو واضح کیا کہ نئی ویکسین تیار کرنے یا موجودہ پراڈکٹس کو ٹویک کرنے کے پلیٹ فارمز اور عمل اچھی طرح تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو نئی مصنوعات کو تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔
      بھارت بائیوٹیک کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ یہ ویکسین دیگر اقسام کے خلاف کام کر سکتی ہے۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا کہ ’’کوویکیسن کو اصل ووہان ویرینٹ کے خلاف تیار کیا گیا تھا۔ اس نے ظاہر کیا ہے کہ یہ ڈیلٹا سمیت دیگر اقسام کے خلاف کام کر سکتا ہے۔ تاہم ہم اب بھی نئی قسموں پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

      سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ایک اور سینئر اہلکار کووی شیلڈ کے مینوفیکچرر ہے، انھوں نے کہا کہ یہ سمجھنا بہت جلدی ہے کہ آیا کووی شیلڈ، اومی کرون کے خلاف کارگر ثابت ہوگی یا اسے ٹویک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں وضاحت حاصل کرنے کے لیے کئی ہفتوں تک انتظار کرنے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: