உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہریت ترمیمی قانون پراحتجاج: سپریم کورٹ نے کیا یہ بڑا ریمارک، سماعت کو لیکر کیا یہ فیصلہ

    کشمیر میں 4 جی نیٹ ورک سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج:- فائل فوٹو

    کشمیر میں 4 جی نیٹ ورک سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج:- فائل فوٹو

    چیف جسٹس، جسٹس شرداروند بوبڈے (CJI Sharad Arvind Bobde) نے شہریت ترمیمی ایکٹ (Citizenship Amendment Act) کے حوالے سے ملک بھر میں ہونے والے تشدد پرتشویش کااظہارکیاہے۔

    • Share this:
    چیف جسٹس، جسٹس شرداروند بوبڈے (CJI Sharad Arvind Bobde) نے شہریت ترمیمی ایکٹ (Citizenship Amendment Act) کے حوالے سے ملک بھر میں ہونے والے تشدد پرتشویش کااظہارکیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شہریت کے قانون پردائردرخواستوں پرتشدد روکنے کے بعد ہی سماعت ہوگی۔ ہم آپ کو بتادیں کہ یہ درخواستیں سی اے اے کی حمایت میں سپریم کورٹ (Supreme Court)میں دائر کی گئیں۔ ایڈووکیٹ وینیت ڈھنڈا(Vineet Dhanda) نے ایک درخواست دائر کی تھی اور سی اے اے(CAA) کی مخالفت کرنے والے ایسے احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی جو ملک کے امن کی برقراری کو نقصان پہنچارہے ہیں۔



    چیف جسٹس نے کیا کہا؟

    شہریت ترمیمی قانون کو آئینی قرار دینے کے لئے جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس معاملے پرچیف جسٹس، جسٹس شرداروند بوبڈے نے کہا۔'اس وقت ملک ایک مشکل مرحلے سے گزررہاہے۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے امن کی برقراری کو یقینی بنایاجائے۔ اس صورتحال میں ایسی درخواستوں کی سماعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے اس دوران یہ بھی کہا کہ ہم یہ کیسے اعلان کرسکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ ایک ایکٹ آئینی ہے؟ غیرآئینی ہے؟۔

    چیف جسٹس، جسٹس شرداروند بوبڈے کی فائل فوٹو۔(تصویر:پی ٹی آئی)۔
    چیف جسٹس، جسٹس شرداروند بوبڈے کی فائل فوٹو۔(تصویر:پی ٹی آئی)۔


    سی اے اے کے خلاف متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ ہم آپ کوبتادیں کہ شہریت ترمیمی قانون کو روکنے کے لئے 100 سے زیادہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ہیں۔ گذشتہ ماہ ، سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں مرکزکونوٹس جاری کیاتھا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی قیادت والی بنچ نے مرکز سے جنوری کے دوسرے ہفتے تک اس سلسلے میں دائر تمام درخواستوں پر جواب داخل کرنے کو کہاتھا۔

     یہ بھی پڑھیں: حیدرآبادکےملین مارچ سے دوررہنے کے بعد اب اسدالدین اویسی نےکیایہ بڑا فیصلہ۔پڑھیں یہاں

    کیا کہتا ہے شہریت ترمیمی شدہ قانون؟

    ترمیم شدہ شہریت قانون کے مطابق، 31 دسمبر 2014 کو پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہند ، سکھ ، بودھ ، جین ، پارسی اور عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے شہری اگروہاں مذہبی تشدد کا شکارہوکرہندوستان آئے تھےتوانہیں غیرقانونی مہاجرین نہیں تصورکیا جائے گا اورانہیں ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔

    یہ بھی پڑھیں : یہ بھی پڑھیں: ہمارے تمام بچوں کو لکھنؤ سے کچھ مہینوں کے لئے بھاگنے کو کہیں ورنہ پولیس۔۔۔۔۔؟
    First published: