உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    CRY Reaction: تلنگانہ میں بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکےڈیٹا میں انکشاف

    جن میں سے 1,835 لڑکیاں اور صرف 1 لڑکا تھا

    جن میں سے 1,835 لڑکیاں اور صرف 1 لڑکا تھا

    National Crime Records Bureau: نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2021 میں تلنگانہ میں بچوں کے خلاف روزانہ 15 سے زیادہ جرائم کیے گئے۔ جس کی وجہ سے بچوں کے تحفظ کے سلسلے میں خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Jammu | New Delhi | Lucknow
    • Share this:
      نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (National Crime Records Bureau) کے تحت چائلڈ رائٹس اینڈ یو (سی آر وائی) کے ایک تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال تلنگانہ میں بچوں کے خلاف کل 5,667 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ سال 2021 میں بچوں کے خلاف روزانہ 15 سے زائد جرائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ پچھلے پانچ سال کے این سی آر بی کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ میں بچوں کے خلاف جرائم میں 2017-2021 کے مقابلے میں 58.3 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ پورے ہندوستان میں پچھلے پانچ سال میں ایسے واقعات میں 15.8 فیصد اضافے کی بنا پر یہ تناسب 42.5 فیصد زیادہ ہے۔

      چائلڈ رائٹس اینڈ یو (CRY) کے ریجنل ڈائریکٹر جان رابرٹس نے بچوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو دور کرنا ضروری ہے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے معاشرے کے لیے مناسب وسائل اور بجٹ مختص کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسکیموں کے نفاذ اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا جاسکے۔

      بچوں کے تحفظ کے دیگر طریقہ کار کو مضبوط بنانے کی ضرورت:

      جان رابرٹس نے کہا کہ معاشرہ میں ہر شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور چوکنا رہے۔ اگر کہیں بچوں کے خلاف جرائم ہورہے ہیں تو اس بارے میں فوری کیسز رپورٹ کرے۔ انھوں نے کہا کہ ویلج چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں (VCPCs) سمیت بچوں کے تحفظ کے دیگر طریقہ کار کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ گاؤں کی سطح پر جرائم کو روکنے کے لیے منفرد ٹاسک فورس ہیں اور بچوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔


      انھوں نے این سی آر بی 2021 کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کل 1,836 بچے ایسے ہیں جو جرائم کا شکار ہوئے ہیں، جن میں سے 1,835 لڑکیاں اور صرف 1 لڑکا تھا، جن کی عمریں 6 تا 12 سال کے درمیان ہیں۔ ان اعداد و شمار میں واضح طور پر لڑکیوں کے جرائم کا شکار ہونے کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان مجرمانہ سرگرمیوں کا تعلق کم سن بچوں سے ہے۔ جن کی معر 12 سے 16 سال کے درمیان ہے۔

      تلنگانہ میں سائبر کرائمز کے معاملے:

      یہ بھی پڑھیں: 

      Mohali fair: موہالی میلے میں ہر جگہ خوف ہی خوف! جوئرائیڈ ہوا تباہ، 5 بچوں سمیت 10 افراد زخمی

      تلنگانہ میں سائبر کرائمز کے معاملے میں ہندوستان میں اس طرح کے سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم ریاست میں بچوں کے خلاف سائبر کرائمز کے 17 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      POCSO Case: چتردرگا مروگھا مٹھ کے چیف کی گرفتاری! کیا کرناٹک کی سیاست پر پڑے گا اثر



      واضح رہے کہ چائلڈ رائٹس اینڈ یو (Child Rights and You) ایک ہندوستانی این جی او ہے جو ہر بچے کے بچپن کے تحفظ کے لیے مصروف عمل ہے۔ سی آر وائی بچوں کو جینے، سیکھنے، بڑھنے اور کھیلنے کے حق پر یقین رکھتا ہے۔ یہ 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کام کررہا ہے۔ اس نے 850 والدین اور دیگر کمیونٹیز کے ساتھ مل کر ہندوستان کی 19 ریاستوں میں 3,000,000 سے زیادہ پسماندہ بچوں کی زندگیوں میں دیرپا تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: