ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال: پرانے شہر میں باونڈری وال کی تعمیر کو لے کر تین علاقوں میں لگا کرفیو

معاملہ کباڑ خانہ علاقے میں ایک زمین پر باونڈری تعمیر سے جڑی ہے۔ ہنومان گنج کے ٹی آئی مہندر سنگھ نے بتایا کہ کباڑ خانہ علاقے میں 30 ہزار اسکوائر فٹ زمین پر آر ایس ایس باونڈری وال بنوا رہا ہے۔

  • Share this:
بھوپال: پرانے شہر میں باونڈری وال کی تعمیر کو لے کر تین علاقوں میں لگا کرفیو
بھوپال کے تین تھانہ علاقوں میں احتیاطی کرفیو

بھوپال: بھوپال کے پرانے علاقے سے جڑے تین تھانہ علاقوں میں آج صبح سے احتیاط کے طورپرکرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ اڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل اپیندر جین نے بتایا کہ پولیس انتظامیہ نے یہ انتظام احتیاط کے طورپر کیا ہے اور شہر میں کہیں پر تناؤ جیسے حالات نہیں ہیں۔ پولیس انتظامیہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متعلقہ علاقوں میں اضافی پولیس دستہ تعینات کیا گیا ہے۔


پولیس ذرائع نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق ہنومان گنج،ٹیلا جمان پورا اور گوتم نگر تھانہ علاقوں میں کرفیو لگایا گیا ہے۔ان سے متصل تھانہ علاقوں میں حکم امتناعی نافذ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پرانے کباڑخانہ علاقے میں ایک زمین پر حقوق سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا۔فیصلے کے مابق متعلقہ فریق زمین پر باقاعدہ اپنا حق لے رہا ہے۔اس دوران نظام امن بنائے رکھنے کےلئے پولیس انتظامیہ نے احتیاط کے طورپر انتظام کیا ہے۔


کوئی بھی شخص میڈیکل ضروریات کو چھوڑ کر گھر سے باہر نہیں نکلیں گے، سبھی بزنس انسٹی ٹیوٹ کی دوکانیں، صنعت پوری طرح بند رہیں گے، صرف اسپتال، میڈیکل دوکانیں کھلی رہیں گی، یہ حکم سرکاری ملازم، پولیس اہلکار اور مسلح اہلکاروں پر نافذ نہیں ہوگا، یہ حکم تعلیمی یا مسابقتی امتحانات میں بیٹھنے والے طلبا پر بھی نافذ نہیں ہوگا، ایڈمٹ کارڈ، آئی ڈی کارڈ دکھانے پر آمد ہوسکے گی، یہ احکامات ان امتحانات کی ڈیوٹی میں لگے ملازمین پر بھی نافذ نہیں ہوگا۔ آئی ڈی کارڈ دکھانے پر اسے اجازت رہے گی، یہ حکم اتوار صبح 9:00 بجے سے آئندہ احکامات تک نافذ رہے گا۔




ان علاقوں میں رہے گا کرفیو کا اثر

پرانی سبزی منڈی، بھارت ٹاکیز چوراہا، تلیا تھانہ علاقہ، حمیدیہ روڈ، شاہجہاں آباد تھانہ روڈ، صیفیا کالج روڈ، ریلوے اسٹیشن پلیٹ فارم نمبر-6، بھارت ٹاکیز اوور برج، نشاط پورہ سے ہنومان گنج کی طرف سے آنے والے مارگ (شاہراہ)۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 17, 2021 02:30 PM IST