کشمیر میں محرم کا جلوس روکنے کے لئے کرفیو جیسے حالات، سلامتی دستوں کو تشدد کا ڈر

حکام نے بتایا کہ تجارتی مرکز لال چوک اور اطراف کے علاقوں کے سبھی داخلہ دروازوں کو خاردار تاروں سے بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں سلامتی اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں۔

Sep 10, 2019 01:23 PM IST | Updated on: Sep 10, 2019 01:31 PM IST
کشمیر میں محرم کا جلوس روکنے کے لئے کرفیو جیسے حالات، سلامتی دستوں کو تشدد کا ڈر

وادی کشمیر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں محرم کا جلوس نکالنے سے روکنے کے لئے شہر اور وادی کے کئی حصوں میں کرفیو جیسی بندشیں لگائی گئی ہیں، کیونکہ حکام کو اندیشہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے اکھٹا ہونے سے تشدد بھڑک سکتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ تجارتی مرکز لال چوک اور اطراف کے علاقوں کے سبھی داخلہ دروازوں کو خاردار تاروں سے بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں سلامتی اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں۔

محرم کے جلوس پر خصوصی نگرانی

Loading...

حکام کے مطابق، وادی کشمیر میں قانون وانتظام کی صورت حال بنائے رکھنے کے لئے احتیاطی طور پر کئی علاقوں میں بندشیں لگائی گئی ہیں۔ حکام نے بندشیں عائد کئے جانے کے لئے کسی وجہ کا حوالہ نہیں دیا، لیکن ایسا مانا جا رہا ہے کہ محرم کے جلوس کو روکنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

بتا دیں کہ جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کے زیادہ تر التزامات کو مرکزی حکومت نے ختم کر دیا ہے۔ 5 اگست کو اس بڑے فیصلے کے بعد سے ہی کشمیر میں بندشیں لگائی گئی ہیں۔ صورت حال بہتر ہونے کے بعد کئی جگہوں سے مرحلہ وار طریقہ سے بندشیں ہٹائی بھی جا رہی ہیں۔

Loading...