ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کانگریس خط معاملہ: کپل سبل کا پارٹی کے خلاف ’ہلہ بول’، کہا- سی ڈبلیو سی میں نہیں سنی گئی ہماری کوئی شکایت

Kapil Sibal Attacks Congress leadership: کپل سبل نے کہا کہ خط میں ایک فل ٹائم اور موثر قیادت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک ایسا لیڈر جو الیکشن کے دوران نظر بھی آئے اور میدان میں سرگرم بھی رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری باتیں میٹنگ میں وفاداری کا امتحان بن کر رہ گئیں۔

  • Share this:
کانگریس خط معاملہ: کپل سبل کا پارٹی کے خلاف ’ہلہ بول’، کہا- سی ڈبلیو سی میں نہیں سنی گئی ہماری کوئی شکایت
کانگریس خط معاملہ: کپل سبل کا پارٹی کے خلاف ’ہلہ بول’،

نئی دہلی: کانگریس پارٹی (Congress Party) میں گھمسان مسلسل جاری ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سینئر لیڈر کپل سبل (Kapil Sibal) نے پارٹی کے خلاف ہلہ بول دیا ہے۔ گزشتہ دنوں پارٹی میں بڑی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے 23 غیر مطمئن لیڈروں میں کپل سبل کا نام بھی شامل تھا۔ گزشتہ ہفتے کانگریس ورکنگ کمیٹی (Congress Working Committee) کی میٹنگ کے بعد کچھ لیڈر تو خاموش ہوگئے، لیکن کپل سبل مسلسل پارٹی کے خلاف اپنی ناراضگی میڈیا میں رکھ رہے ہیں۔ اب انہوں نے الزام لگایا ہے کہ سی ڈبلیو سی (CWC) میٹنگ میں غیر مطمئن لیڈروں کی کسی پریشانی پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میٹنگ میں ان پر حملے کئے جارہے تھے، تب بھی کوئی لیڈر ان کی حمایت میں نہیں آیا۔


کانگریس میں آئین پر عمل نہیں


انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ پارٹی کو اس وقت آئینی طور پر منتخب ہوئے صدر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’کانگریس ہمیشہ بی جے پی پر آئین پر عمل نہیں کرنے اور جمہوریت کی بنیاد کو برباد کرنے کا الزام لگاتی ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ہی ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ہم اپنی پارٹی کے آئین پر عمل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ کون اس پر اعتراض کرسکتا ہے، میں کسی خصوصی پارٹی کی بات نہیں کرتا، لیکن اس ملک میں سیاست اب خاص طور پر وفاداری پر مبنی ہے۔ ہمیں وہ چیز چاہئے جو ’وفاداری پلس’ کہلاتی ہے۔ یہ پلس صلاحیت اور کسی چیز کے لئے پابند عہد ہے’۔


کپل سبل نے کہا کہ خط میں ایک فل ٹائم اور موثر قیادت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایک ایسا لیڈر جو الیکشن کے دوران نظر بھی آئے اور میدان میں سرگرم بھی رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری باتیں میٹنگ میں وفاداری کا امتحان بن کر رہ گئیں۔ انہوں نے کہا، ’سی ڈبلیو سی کو بتایا جانا چاہئے تھا کہ اس خط میں کیا ہے۔ یہ بنیادی بات ہے جو ہونی چاہئے تھی۔ اگر اس میں آپ غلطی کرتے ہیں، تو یقینی طور پر، ہم سے پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے اور ہم سے پوچھ گچھ کی جانی چاہئے’۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 30, 2020 08:20 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading