உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سونیا گاندھی ابھی بنی رہیں گی صدر، آئندہ سال کانگریس کو مل سکتا ہے نیا سربراہ: ذرائع

    سونیا گاندھی ابھی بنی رہیں گی صدر، آئندہ سال کانگریس کو مل سکتا ہے نیا سربراہ: ذرائع

    سونیا گاندھی ابھی بنی رہیں گی صدر، آئندہ سال کانگریس کو مل سکتا ہے نیا سربراہ: ذرائع

    کانگریس (Congress) کی عبوری صدر سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) نے سی ڈبلیو سی (CWC) میٹنگ میں پارٹی کے ہی جی-23 لیڈروں کو ایک طرح سے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی مستقل صدر ہیں اور ان سے بات کرنے کے لئے میڈیا کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس (Congress) کی عبوری صدر سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) آئندہ سال تک عہدے پر بنی رہ سکتی ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کی ہفتہ کے روز میٹنگ کے بعد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کانگریس تنظیم کے الیکشن ستمبر 2022 تک پورے ہوجائیں گے۔ ایسے میں بتایا جارہا ہے کہ سونیا گاندھی آئندہ سال تک عہدے پر بنی رہیں گی۔ مانا جا رہا ہے کہ پانچ ریاستوں کے آئندہ اسمبلی انتخابات (Assembly Elections 2022) کے سبب فی الحال تنظیمی الیکشن نہیں کرائے جائیں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کو آئندہ سال نیا صدر مل جائے گا اور وہ پورے پانچ سال تک کام کرے گا۔

      واضح رہے کہ سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں ہارنے کے بعد راہل گاندھی نے کانگریس کے صدر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سونیا گاندھی نے پارٹی کی کمان سنبھالی۔ حالانکہ پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے مسلسل الیکشن کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی کئی نے یہ بھی تجویز پیش کی اگر راہل گاندھی پھر سے کمان سنبھالنے کو تیار ہیں تو انہیں صدر عہدے پر واپس لوٹ آنا چاہئے۔ دوسری جانب سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی نے بھی پارٹی میں الیکشن کا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں یہ بھی بتایا کہ صدر کے الیکشن کا عمل 30 جون تک پورا کیا جانا تھا، لیکن کورونا وبا کے سبب ہی اسے ملتوی کرنا پڑا۔ اب اس کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔

      تنظیمی انتخابات پر سونیا گاندھی نے کیا کہا؟

      سونیا گاندھی نے کہا کہ کورونا بحران کے سبب صدر کے الیکشن سے متعلق مدت میں توسیع کرنی پڑی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا، ’اگر آپ مجھے بولنے کی اجازت دیں تو میں میں ایک کل وقتی اور فعال صدر ہوں ... گزشتہ دو سالوں میں کئی ساتھیوں اور خاص طور پر نوجوان لیڈروں نے قیادت کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور پارٹی کی پالیسیوں کو لوگوں تک لے کر گئے ہیں’۔

      انہوں نے جی -23 لیڈروں کو نصیحت دیتے ہوئے کہا، ’میں نے ہمیشہ صاف گوئی کی تعریف کی ہے۔ مجھ سے میڈیا کے ذریعہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے ہم سبھی یہاں کھلی اور ایماندار تبادلہ خیال کرتے ہیں، لیکن اس چہار دیواری سے باہر جو بات جائے وہ سی ڈبلیو سی کا اجتماعی فیصلہ ہونا چاہئے۔ گزشتہ دنوں کانگریس کے سینئر لیڈروں غلام نبی آزاد اور کپل سبل نے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی کو خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ پارٹی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی فوراً میٹنگ بلائی جائے۔ کپل سبل نے بھی پارٹی کی پنجاب یونٹ میں مچے گھمسان کے درمیان گزشتہ دنوں پارٹی قیادت پر سوال کھڑے کئے تھے اور کہا تھا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلاکر اس صورتحال پر تبادلہ خیال کی جانی چاہئے اور تنظیمی انتخابات کرائے جانے چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: