ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

Cyclone Tauktae:گردابی طوفان’توک تائی‘ آج شام گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا

گاندھی نگر (Gandhinagar) میں واقع زلزلہ وار تحقیقاتی ادارہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ زلزلہ صبح ساڑھے تین بجے ریکارڈ کیا گیا جس کا مرکز ایک منٹ کے فاصلے پر اونا (East-South East of Una ) کے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گور سومناتھ ضلع سوراشٹر (Saurashtra ) خطہ میں واقع ہے۔

  • Share this:

گردابی طوفان ’توک تائی‘ گجرات کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ پیر کی شام تک ریاست کے ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا۔ محکمہ موسمیات نے یہ اطلاع دی۔گردابی طوفان ’توک تائی‘ جو تباہ کن صورت حال اختیار کر چکا ہے ، گذشتہ چھ گھنٹوں کے دوران تقریبا 155 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مشرقی وسطی بحیرہ عرب کے راستے شمال مغرب کی سمت بڑھ رہا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ "آج شام گجرات کے ساحل پر پہنچنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ آج رات 8 بجے سے 11بجے کے درمیان 155-165 سے 185 فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ پوربندر اور مہووا (ضلع بھاو نگر) کے درمیان گجرات کے ساحل کو پار کرنے کے آثار ہیں۔



محکمہ موسمیات کے مطابق گجرات کے ساحل کو پار کرنے کے بعد گردابی طوفان بتدریج کمزور ہونے کی امید ہے۔ وہیں منگل کی شام تک ’تاؤتے‘ کے گردابی طوفان کی شدت برقرار رہنے کا اندازہ ہے جس کے بعد راجستھان پہنچنے تک یہ بے حد کمزور پڑجائے گا۔'تاؤتے' کی وجہ سے گجرات کے بیشتر علاقوں میں پیر سے منگل کی دوپہر تک ہلکی سے معتدل بارش ہوسکتی ہے اور کچھ جگہوں پر تیز یا بہت زبردست بارش ہوسکتی ہے۔ اس کے اثر کی وجہ سے منگل کو جنوبی راجستھان میں بارش کے آثار ہیں۔


محکمہ موسمیات کے بلیٹن کے مطابق یہ طوفان آج صبح 5.30 بجے گجرات کے ویراوال ساحل سے 290 کلومیٹر جنوب جنوب مشرق میں واقع تھا اور 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے گجرات کے ساحل سے قر یب پہونچنے کے دوران ہوا کی رفتار 155 سے 185 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، بھاؤ نگر کے علاوہ ، گیر،سوم ناتھ ، امریلی ، پوربندر ، احمد آباد ، وڈوڈرا ، بھروچ ، ولساد وغیرہ میں بھی بھاری سے بہت تیز بارش ہوسکتی ہے۔ طوفان کے اثر کی وجہ سے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 33 میں سے 21 اضلاع کے 84 تعلقہ میں بارش ہوئی ہے۔ ان میں سے چھ اضلاع میں 25 ملی میٹر یا ایک انچ سے زیادہ بارش ہوئی۔ ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گذشتہ روز وزیر اعلی وجے روپانی سے طوفان سے بچاؤ اور امدادادی کاموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی تھی۔ وہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔طوفان کے پیش نظرریاست میں آج اور کل کو کورونا ٹیکوں کے کام کو مکمل طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق کاموں کو نگرانی کررہے محکمہ ریونیو کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پنکج کمارنے بتایا کہ امدادی کاموں کے لئے این ڈی آر ایف کی 41 اور ایس ڈی آر ایف کی 10 ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔ آج صبح 6 بجے تک 17 اضلاع کے 655 دیہات سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس دوران کورونا سے متعلق تمام پروٹوکول کی پیروی کی گئی ہے۔ طوفان سے متاثرہ اضلاع میں کنٹرول روم قائم کردیئے گئے ہیں۔ ممکنہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر اثرانداز ہونے کے امکان کے پیش نظر ضروری بجلی کے بیک اپ کا انتظام کیا جارہا ہے۔ محکمہ صحت کی 388 ٹیمیں اور ریونیو افسران کی 319 ٹیمیں بھی تعینات کردی گئی ہیں۔ 161 آئی سی یو ایمبولینسیں اور 1086 ایمبولینسز کی 576 ایمبولینسیں بھی مریضوں کو مفت اسپتال منتقل کرنے کے لئے تعینات کی گئیں ہیں۔ آکسیجن کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھنے کے لئے سڑکوں پر گرین کوریڈورز تیار کردیئے گئے ہیں۔

توک تائی طوفان سے زبردست اتھل پتھل کے سبب ماہی گیروں کو پانچ دن کے لئے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ سینکڑوں کشتیاں بھی واپس بلائی گئیں۔ گجرات کے ویروال ، پپپ واؤ ، جعفرآباد وغیرہ کی بندرگاہوں پر انتہائی شدید قسم کے نمبر 10 کا انتباہی سگنل لگایا گیا ہے۔ پوربندر ، سکا ، نولکھی ، بیڈی ، نیو کانڈلہ ، مانڈوی اور جاکھو کی بندرگاہوں پر آٹھ نمبر کا سگنل ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ طوفان ، تیز بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں کچے ، پکے مکانات ، سڑکیں ، بجلی کے کھمبے ، درخت اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خطرناک علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ، ماہی گیر سمندر میں نہ جائیں ، سڑک اور ریل ٹریفک کو کنٹرول کریں ، طوفان کے دوران لوگوں کو اپنے اپنےگھروں میں رہنے کا مشورہ دیاگیا ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 2700 سے زیادہ ہورڈنگز اور 667 عارضی ڈھانچوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔

یو این آئی ان پٹ کے ساتھ
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 17, 2021 02:49 PM IST