غریبوں کوپانچ روپئےمیں بھرپیٹ کھانا کھلانے والی 'دادی ماں' کا انتقال

دادی کی رسوئی اسٹال کےسامنے طلباء، کام کرنے والے لوگ، رکشہ چلانےاورراہگیرلائن میں لگتے ہیں۔ اس رسوئی کی شروعات غریبوں کوپانچ روپئےمیں کھانا کھلانےکےمقصد سے کی گئی تھی۔

Sep 09, 2019 07:40 PM IST | Updated on: Sep 09, 2019 07:46 PM IST
غریبوں کوپانچ روپئےمیں بھرپیٹ کھانا کھلانے والی 'دادی ماں'  کا انتقال

غریبوں کو پانچ روپئے میں کھانا کھلانے والی 'دادی ماں' کا انتقال ہوگیا۔

سروجنی کھنہ کا کل یعنی اتوارکی صبح 11 بجے انتقال ہوگیا۔ یہ وہی سروجنی کھنہ تھیں، جنہوں نےغریبوں کو پانچ روپئے میں کھانا کھلانےکا فیصلہ کیا تھا۔ وہ 90 سال کی تھیں۔ ان کی آخری رسوم اتوارشام سیکٹر-94 میں ادا کی گئی۔ ان کے بیٹےانوپ کھنہ، جو دادی کی رسوئی کوچلاتے ہیں، انہوں نےبتایا کہ ان کی ماں غازی آباد کے یشودا اسپتال میں داخل تھیں، انہیں سانس لینےمیں تکلیف تھی۔

یشودا اسپتال سے سروجنی کھنہ تقریباً پانچ دن پہلےہی گھرآئی تھیں۔ ڈاکٹروں نےانہیں اسپتال سےڈسچارج کرکےگھربھیج دیا تھا۔ گھرپرہی ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کےانتقال سےاہل خانہ صدمےمیں ہیں۔ انوپ نے مزید بتایا کہ اپنی ماں سے ترغیب لےکرہی انہوں نے چارسال پہلے دادی کی رسوئی کی بنیاد رکھی تھی۔ دادی کی رسوئی میں ہردن تقریباً 500 لوگوں کو پانچ روپئے میں بھرپیٹ کھانا کھلایا جاتا ہے۔

Loading...

دادی کی رسوئی

دادی کی رسوئی روزانہ سیکٹر-17 میں صبح 10 بجے سے 11:30 بجے اورسیکٹر 29 میں دوپہر12 بجے سے دو بجے تک چلتی ہے۔ یہاں کئی لوگ بھرپیٹ کھانا کھا کراپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اسٹال کے سامنے روزانہ لوگ لائن میں لگتے ہیں، اس میں طلباء، کام کرنے والے اوررکشہ چلانے والوں سے لے کرکئی دوکان کے مالک اورراہگیربھی شامل ہوتے ہیں۔ دادی کی رسوئی میں لوگ احترام کے ساتھ کھانے کا انتظام کراتے ہیں۔ کسی کی سالگرہ ہو یا یوم پیدائش۔ لوگ اس دن کے کھانے میں اپنا تعاون دے کرضرورتمندوں کو کھانا فراہم کراتے ہیں۔

Loading...