دلتوں کی بد قسمتی!نہ کوئی کیس،نہ ہی چرچہ،جنسی استحصال کی شکاردلت خواتین کا درد

مہا راشٹر کے بلڈھانہ تحصیل میں 47سال کی رادھا بائی گل راؤ انبال کر کا ان کے گاؤں کے دبنگوں نے جنسی استحصال کیا اور انہیں برہنہ کر کے پورے گاؤں میں گھمایا۔اس واقعے کے 9 مہینے بعد بھی ان کے حملہ آور کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

Mar 10, 2018 07:00 PM IST | Updated on: Mar 10, 2018 10:46 PM IST
دلتوں کی بد قسمتی!نہ کوئی کیس،نہ ہی چرچہ،جنسی استحصال کی شکاردلت خواتین کا درد

علامتی

ممبئی۔مہا راشٹر کے بلڈھانہ تحصیل میں 47سال کی رادھا بائی گل راؤ انبال کر کا ان کے گاؤں کے دبنگوں نے جنسی استحصال کیا اور انہیں برہنہ کر کے پورے گاؤں میں گھمایا۔اس واقعے کے 9 مہینے بعد بھی ان کے حملہ آور کھلے عام گھوم رہے ہیں۔رادھابائی کے مطابق گزشتہ سال 2 جون کو ان کے شوہر مہینے کے خرچے کو لیکر ہوئے تنازع کے بعد غصے میں گھر چھوڑ کر چلے گئے۔رادھا بائی انہیں روکنے کو پیچھے بھاگیں لیکن تب تک وہ بہت دور جا چکے تھے۔

رادھا بئی بتاتی ہیں کہ 'میں انہیں واپس لانے کیلئے پیچھے بھاگی لیکن وہ کافی دور جا چکے تھے اور مجھے نظر نہیں آئے۔تب میں ایک کھیت کے پاس رکی اور وہاں کھڑے لوگوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے میرے شوہر کو دیکھا ہے۔انہوں نے کچھ جواب نہیں دیا اور پھر مجھے میرے بیٹے اوردیور کو ساتھ لانے کو کہا"۔

Loading...

حالانکہ جب رادھا بائی ان دونوں کو لیکر واپس اس جگہ پہنچی تو وہاں قریب 30لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے۔ان کے پہنچتے ہی ان لوگوں نے رادھا بائی اور ان کے اہل خانہ پر حملہ کر دیا۔

رادھابئی کابیٹا اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتا ہیکہ اس دن کو سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھتا ہے۔وہ کہتا ہیکہ "انہوں نے مجھے زمین پر پٹک دیا،پھر مجھے اور میرے چاچا کو لات ۔گھونسے مارنے لگے۔انہوں ننے ہمیں لاٹھی ۔ڈنڈوں کے روڈ  جو ملا سب سے مارا"۔

اس حملے میں دونوں لوگوں کو گہری چوٹیں آئی ہیں۔رادھابائی کے دیور کو سر میں 13ٹانکیے لگانے پڑے۔وہیں رادھابائی نے اپنے بیٹے اور دیور کو بچانے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کنارے دھکا دے دیا۔

گاؤں کے اونچی ذات سے جڑے لوگوں کی اس بھیڑ نے پہلے ان کے کپڑے پھاڑ کر اپنی جیت کے جھنڈے کی طرح ٹانگ دئے۔پھر انہوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو باندھ دیا اور برہننہ کر کے پور ے گاؤں میں گھمایا۔

ان میں سے کچھ لوگ میرے خفیہ عضو پر لکڑیاں ڈالتے کچھ لوگوں نے میرے اس پر مارا،میرے جسم کے خفیہ حصے کو نوچ کھسوٹ رہے تھے اور مجھے بار۔بار تھپڑ مار رہے تھے۔میرے جسم سے کافی خون بہہ رہا تھا۔وہاں کچھ  لوگ اس پورے واقعے کا ویڈیو بنا رہے تھے۔

اپنا درد بیاں کرتی رادھا بائی

رادھا بائی بتاتی ہیں ان دبنگوں نے اس کے بعد انہیں کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔وہاں کچھ دوسرے دلتوں نے انہیں کچھ پائیدان دئے۔جس سے کسی طرح انہوں نے اپنا جسم ڈھکا اور سیدھا پولیس تھانے پہنچیں۔

حالانکہ جیسا اکثر اس ملک میں ہوتا ہے ۔انصاف کی راہ ان دلتوں کے اتنی آسان نہیں۔پولیس افسران نے اس کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی جگہ بس ایک غیر سنجیدہ رہورٹ درج کی۔جس کی کاپی نیوز 18 کے پاس ہے۔اس طرح کی رپورٹ میں پولیس کو کیس کی جانچ کی کوئی جوب دہی نہیں ہوتی۔بشرط کوئی کورٹ اسے اس سلسلے میں ہدایت نہ دے۔

رادھابائی کے بیٹے کہتے ہیں کہ "ان میں سے کوئی بھی اب تک گرفتار نہیں ہوا۔ہم ہر ہفتے پولیس تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن کوئی فائیدہ نہیں ہوا"۔

نیوز 18 کے صھافی نے اس معاملے کو لیکر پولیس انسپیکٹر سنگرام پاٹل سے بات کرنے کہ کوشش کی لیکن انہیں پہلی مرتبہ فون کاٹ دیا اور پھر کبھی اٹھایا ہی نہیں۔اسے لیکر کئی ایس ایم ایس بھی کئے گئے لیکن اس کا بھی جواب نہیں ملا۔

اس معاملے میں دلت خاتون شکتی نام کے ایک این جی او سے جڑی کوشل دیوی کہتی ہیں کہ"نربھیا کے ساتھ جب یہ ہوا تو پوری دہلی سڑک پر اتر آئی۔وہیں ملک میں روزانہ دلت خواتین کے ساتھ اسی طرح ریپ اور غلط سلوک ہوتا ہے،تو کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔آپ کو پتہ ہے اس میں سب سے زیادہ کیا ہے؟زیادہ تر خواتین نے یہ مان لیا ہیکہ ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا تو ۔اونچی ذات کے وہ لوگ ان کے من موافق سلوک کرتے رہیں گے اور انہیں اسی طرح ذندگی گزارنی ہوگی'۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ اعدادو شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10سالوں کے دوران دلتوں کے خلاف معاملوں میں 51 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔سال 2016 میں ہی دلتوں کے خلاف جرائم کے 40،801 معاملے درج کئے گئے۔وہیں ملک میں دلتوں کے خلاف ہونے والے کچھ جرائم کا ایک چوتھائی اکیلے یوپی میں سامنے آتے ہیں۔پچھلے دنوں 8 ماارچ کو جب دنیا عالمی یوم خواتین کا جشن منا رہی تھی تب یہ دلت خواتین اپنے درد اور غم کے سائے میں دن گزار رہی تھیں ۔خواتین کے وقار کے

خلاف بس ایک یہی بڑاجرم نہیں بلکہ اس کے بعد بھی یہ کئی دوسرے طریقوں سے چلتا رہا۔

سال 2011 میں آئے مرد م شماری کے تازہ اعدادو شمار کے مطابق یوپی ،بہار،آندھرا پردیش،تلنگانہ اور مہا راشٹر میں ملک کی 42 فیصد دلت آبادی ہے۔2016 کیلئے این سی آربی کی رپورٹ بتاتی ہیکہ دلتوں کے خلاف ہوئے کل جرائم میں 25.5 فیصد صرف یوپی میں ہوئے۔اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ زیادہ تر جرائم خواتین کے خلاف کئے گئے جس میں ریپ دیگر جنسی استحصال شامل تھے۔

Loading...