ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Danish Siddqui:ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کاافغانستان میں قتل،قندھارمیں چھڑپوں کےدوران ہوئی واردات

جمعہ کو افغانستان کے سفیر فرید ماموندزی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر یہ معلومات دی ہے۔ جانکاری کے مطابق دانش صدیقی ،اسپن بولدک ضلع میں کیے گئے ایک حملہ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ ضلع پاکستان سے متصل ہے۔ یہ قتل کس نے کیا اس کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری سامنے نہیں آسکی ہیں اور نہ ہی وجوہات کا علم ہوا ہے۔

  • Share this:
Danish Siddqui:ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کاافغانستان میں قتل،قندھارمیں چھڑپوں کےدوران ہوئی واردات
Danish Siddiqui Killed: دانش صدیقی نے 13جولائی کو اپنے ٹوئٹر ہنڈل پر اس تصویر کو شیئر کرتےہوئے لکھا تھا ۔۔ پندرہ منٹ کا بریک لیا ہوں۔

کابل: ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کا افغانستان میں قتل کردیا گیا ہے۔ دانش نیوز ایجنسی رائٹرز کے لئے کام کرتے تھے۔ کچھ دن سے وہ قندھار کی موجودہ صورتحال کا کوریج کررہے تھے۔جمعہ کو افغانستان کے سفیر فرید ماموندزی نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر یہ معلومات دی ہے۔ جانکاری کے مطابق دانش صدیقی ،اسپن بولدک ضلع میں کیے گئے ایک حملہ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ ضلع پاکستان سے متصل ہے۔ یہ قتل کس نے کیا اس کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری سامنے نہیں آسکی ہیں اور نہ ہی وجوہات کا علم ہوا ہے۔



افغان سفیر فرید ماموندزی نے ٹویٹ کیا ، "گذشتہ رات قندھار میں اپنے دوست دانش صدیقی کے قتل کی افسوسناک خبر سے دلبرداشتہ ہوگیا ہوں ۔ بھارتی صحافی اور پلٹزر انعام جیتنے والے دانش صدیقی افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کوریج کر رہے تھے۔ میں ان سے 2 ہفتہ پہلےانکے کابل سے روانہ ہونے سے پہلے ملا تھا۔ ان کے اہل خانہ اور رائٹرز سے تعزیت کرتا ہوں۔


دانش صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹی وی رپورٹر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلسٹ بن گئےتھے۔ دانش صدیقی کو روہنگیا پناہ گزینوں کے مسا ئل پر غیر معمولی کوریج پر سال 2018 میں پلٹزر انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

13 جولائی کی رات اپنے ایک اور ٹوئٹ میں دانش صدیقی نے لکھا تھا کہ افغان اسپیشل فورس ، اشرافیہ کے جنگجو پورے ملک میں مختلف محاذوں پر ہیں۔ میں نے ان جوانوں کے ساتھ کچھ مشنوں کے لئے ٹیگ کیا۔ آج قندھار میں وہی ہوا جب وہ ایک جنگی مشن پر پوری رات گزارنے کے بعد ریسکیو مشن پر تھے۔


افغانستان میں اپنی خدمات کے دؤران جاں بحق ہونے والے دانش صدیقی کے تعلق سے رائٹرز کے صدر مائیکل فریڈن برگ اور چیف ایڈیٹر ان چیف ، الیسیندرا گیلونی نے ایک بیان میں کہا کہ دانش ایک بہترین صحافی ، ایک ذمہ دار شوہر اور والد تھے اور یہ ایک بہت ہی پسندیدہ ساتھی تھے۔ ہماری ساری ہمدردی اس وقت ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔”

دانش صدیقی نے روہنگیا پناہ گزینوں کے متعلق اپنے کوریج پر 2018ء میں باوقار پلٹزر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔

دانش صدیقی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی تھی اور 2007ء میں انہوں نے اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سنٹر جامعہ سے جرنلزم کی سند حاصل کی تھی۔دانش صدیقی نے اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز ٹی وی نیوز نمائندہ کی حیثیت سے کی تھی بعد ازاں وہ 2010 ء میں رائٹرس سے منسلک ہوگئے تھے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 16, 2021 01:55 PM IST