ہوم » نیوز » وطن نامہ

یوم وفات پر خاص : ہندستانی عناصر سے گوندھی ہوئی تھی انور جلالپوری کی شاعری

انور جلالپوری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ دوہزار سولہ میں یش بھارتی اور دوہزار اٹھارہ میں انہیں پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔

  • Share this:
یوم وفات پر خاص : ہندستانی عناصر سے گوندھی ہوئی تھی انور جلالپوری کی شاعری
یوم وفات پر خاص : ہندستانی عناصر سے گوندھی ہوئی تھی انور جلالپوری کی شاعری

ہندوستان میں آزادی کے بعد اردو شاعری میں اپنی نظامت کے منفرد انداز اور شاعری کے منفرد اسلوب سے جو چند لوگ یاد کئے جائیں گے ان میں انور جلالپوری کا نام سرفہرست ہوگا ۔ انور جلالپوری کی ولادت چھ جولائی انیس سو سینتالیس کو اتر پردیش کے جلالپور میں ہوئی اور دو جنوری دوہزار اٹھارہ کو سترسال کی عمر میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوا۔


انور جلالپوری کی ابتدائی تعلیم جلالپور میں اور اعلی تعلیم اعظم گڑھ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی ۔ انور جلالپوری نے پہلے انگریزی زبان سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ بعد ازاں انہوں نے اردو زبان سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انور جلالپوری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فرزند تھے اور سرسید کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انیس سو انہتر میں جب پوری دنیا غالب کی صدی منا کر رسم ادائیگی کررہی تھی تب انورجلالپوری نے محض بائیس سال کی عمر میں سر سید کی تعلیمی تحریک سے روشنی لیتے ہوئے جلالپورمیں بچوں کی ذہن سازی کے لئے غالب کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ انور جلالپوری کی حیات میں ہی کالج میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اب اس کے ذمہ داران اسے ترقی کی نئی منزل پر لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔


انور جلالپورایک بے مثل ناظم مشاعرہ تو تھے ہی وہ ایک بہترین شاعر، مترجم اور انشائیہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے قران پاک کے پہلے سپارے کا اردو میں جہاں منظوم ترجمہ کیا وہیں انہوں نے ٹیگور کی گیتانجلی کا بھی منظوم ترجمہ کیا تھا ۔ انور جلالپوری کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور انہوں نے جب بھگود گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا تو اہل نظر نے اسے خوب پسند کیا۔


انور جلالپوری گنگا جمنی تہِذیب کے پاسبان تھے۔ وہ ایسی دنیا کا خواب دیکھتے تھے جس میں ظلم و دہشت کی کوئی جگہ نہیں ہو ۔ وہ تہذیبوں کے پاسدار تھے اور ان کی شاعری ان کے افکار کی آئینہ داری تھی ۔

میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح

جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے

انور جلالپوری صرف شاعری اور ناظم مشاعرہ ہی نہیں تھے بلکہ صاحب طرز نثر نگار بھی تھے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اردو دنیا جو ان کی حیات میں پلکیں بچھائے رکھتی تھی ۔ مدھیہ پردیش میں آج ان کے نام پرکسی بھی ادبی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا ۔ انور جلالپوری نے دنیا سے کوچ کرنے سے چند روز قبل جو شعر کہا تھا وہ آج کے حالات کا آئینہ دار ہے ۔

میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا

مرے لئے کبھی دل سوگوار مت کرنا

انور جلالپوری کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ دوہزار سولہ میں یش بھارتی اور دوہزار اٹھارہ میں انہیں پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا تھا۔ انور جلالپوری آج بھلے ہی ہمارے درمیان نہیں ہے مگر ان کی شاعری، ان کی تحقیق اور ترجمے اردو دنیا کیلئے مشعل راہ بنیں رہیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 02, 2021 02:26 PM IST