ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کورونا مریضوں کی اموات نسل کشی سے کم نہیں ، الہ آباد ہائی کورٹ نے جانچ کا دیا حکم

الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے کہا کہ ’’ہمیں یہ کہتے ہوئے بے حد تکلیف محسوس ہورہی ہے کہ اسپتالوں میں صرف آکسیجن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے کووڈ-19 مریضوں کی موت ہورہی ہے۔ جو کہ ایک مجرمانہ فعل ہے اور ان لوگوں کے ذریعہ نسل کشی سے کم نہیں جن کو یہ کام سونپا گیا ہے۔

  • Share this:
آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کورونا مریضوں کی اموات نسل کشی سے کم نہیں ، الہ آباد ہائی کورٹ نے جانچ کا دیا حکم
آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کورونا مریضوں کی اموات نسل کشی سے کم نہیں ، الہ آباد ہائی کورٹ نے جانچ کا دیا حکم

الہ آباد : الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے کہ اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے کووڈ۔19 کے مریضوں کی موت حکام کی طرف سے ایک مجرمانہ فعل ہے۔ جو کہ منظم انداز میں نسل کشی سے کم نہیں ہے۔ یہ ریمارکس لکھنؤ اور میرٹھ اضلاع میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کووڈ۔19 مریضوں کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ خبروں کے سلسلے میں دیا گیا۔ اسی ضمن میں عدالت نے ان واقعات کی تحقیقات کا بھی حکم دیا۔


جسٹس سدھارتھ ورما (justices Siddharth Verma) اور جسٹس اجیت کمار (Justice Ajit Kumar) پر مشتمل دو ججوں کے بنچ نے ریاست میں کووڈ۔19 کے پھیلاؤ اور کوارنٹائن مراکز کی حالت سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی پر یہ حکم صادر کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ’’ہمیں یہ کہتے ہوئے بے حد تکلیف محسوس ہورہی ہے کہ اسپتالوں میں صرف آکسیجن کی فراہمی نہ کرنے کی وجہ سے کووڈ-19 مریضوں کی موت ہورہی ہے۔ جو کہ ایک مجرمانہ فعل ہے اور ان لوگوں کے ذریعہ نسل کشی سے کم نہیں ہے ، جن کو یہ کام سونپا گیا ہے۔ وہ مائع میڈیکل آکسیجن کی مسلسل خریداری اور سپلائی چین کو یقینی بنائیں ‘‘۔


عدالت نے مزید کہا کہ ’’جب سائنس اس قدر ترقی یافتہ ہے کہ ان دنوں دل کی پیوند کاری (heart transplantation) اور دماغی سرجری (brain surgery) بھی ہو رہی ہے تو ہم اپنے لوگوں کو اس طرح سے کیسے مرنے کے چھوڑ سکتے ہیں‘‘۔  عدالت نے کہا ہے کہ ’’عام طور پر ہم ریاستی اور ضلعی انتظامیہ کو ایسی خبروں کی انکوائری کرنے کی ہدایت نہیں دیتے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں ، لیکن چونکہ اس مفاد عامہ کے تحت عرضی کے نمائندے نے اس طرح کی خبروں کی تصدیق کی ہے۔ یہاں تک کہ دوسرے اضلاع میں بھی کم یا اس سے زیادہ حالات ریاست کے جیسے ہیں ۔ ہمیں حکومت کی طرف سے فوری علاج و معالجہ فراہم کرنے سے متعلق ہدایت جاری کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے‘‘۔


عدالت نے لکھنؤ اور میرٹھ کے ڈی ایم کو ہدایت جاری کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر ایسی خبروں کی جانچ کریں اور اگلی تاریخ کو اپنی رپورٹ پیش کریں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلی سماعت پر آن لائن عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت کو ایک وائرل خبر کے بارے میں بتایا گیا کہ گذشتہ اتوار کو میرٹھ کے میڈیکل کالج کے نئے ٹراما سنٹر کے آئی سی یو میں پانچ مریضوں کی موت ہوگئی ہے۔

اسی طرح سن اسپتال، گومتی نگر، لکھنؤ اور میرٹھ کے ایک اور نجی اسپتال میں داخل کووڈ۔19 مریضوں کو وقت پر آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اسپتال انتظامیہ نے ہاتھ ہٹا لیا کہ ضرورت کے باوجود آکسیجن کو فراہم نہیں کیا گیا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 05, 2021 01:39 PM IST