உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدم تشدد کے علمبردار مہاتما گاندھی کی جینتی پر نیوز 18 اردو کی خاص پیشکش: ویڈیو

    Youtube Video

    ہندستان کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے گاندھی جی نے اہنسا یعنی عدم تشدد کا سہارا لیا اورکامیاب ہوئے۔

    • Share this:
      عدم تشدد کےعلمبردار مہاتما گاندھی کا آج یوم پیدائش ہے۔وہ گاندھی جن کی آندھی نےانگریزوں کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیاتھا۔ ملک آج ہندوستان کی آزادی کے عظیم رہنما کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔آئیے جانتے ہیں ان کی زندگی کی کہانی۔ موہن داس کرم چند گاندھی۔ آزادی کی لڑائی میں جنھوں نے عدم تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔ بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے گاندھی جی نے اہنسا یعنی عدم تشدد کا سہارا لیا اورکامیاب ہوئے۔ گاندھی کے عدم تشددکے اصول نے عام وخاص دیس اوردنیا سب کو یکساں طور پر متاثرکیا۔ اہنسا (عدم تشدد) کے پجاری اور امن کے علمبردار گاندھی جی کی پیدائش ریاست گجرات کے پوربندر میں 2 اکتوبر 1869 کو ہوئی، ان کے والدکا نام کرم چند گاندھی اور والدہ کا نام پتلی بائی تھا۔

      ابتدائی تعلیم گجرات میں ہوئی اور اعلی تعلیم کے حصول کے لئے لندن گئے اور بیرسٹر بن کر لوٹے۔سنہ 07 ۔ 1906 میں مہاتما گاندھی نے ہندوستانیوں کے لیے لازمی رجسٹریشن اور پاس کے خلاف جنوبی افریقہ میں ستیہ گرہ شروع کیا۔حق کی لڑائی جو شروعات انھوں نے جنوبی افریقہ میں کی تھی وہ آئندہ برسوں میں شدت کے ساتھ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نمایاں طور پرنظر آتی ہے۔ ان کے ہندوستان آنے کے بعدآزادی کی لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی۔

      گاندھی جی نے سنہ 1917 میں چمپارن ستیہ گرہ بھارت کی سول نافرمانی تحریک کا آغاز کیا۔سنہ 1918 میں کھیڑا ستیہ گرہ تحریک شروع ہوئی تھی۔ کسانوں پر عائد بھاری ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔سنہ 1920 میں گاندھی جی نے کانگریس کی قیادت سنبھالی اور اپنے مطالبات میں شدت لاتے رہے، یہاں تک کہ انڈین نیشنل کانگریس نے 26 جنوری 1930 کو بھارت کی آزادی کا اعلان کیا۔ سنہ 1920 میں گاندھی جی نے عدم تعاون تحریک شروع کی، یہ تحریک بھارت کی سب سے بڑی عوامی تحریک تھی۔ سنہ 1930 میں سیول نافرمانی تحریک اور ڈانڈی مارچ نکالا۔

      یہ ہندستان کی تاریخ کے اہم واقعات میں سے ایک ہے، سنہ 1942 میں بھارت چھوڑو تحریک کی قیادت مہاتما گاندھی نے کی تھی جس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ممتاز رہنما شامل تھے۔ اس تحریک کے بعد کافی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑی۔لیکن ہار نہیں مانی۔ ڈٹے رہے، تمام صعوبتوں اور مصائب کے درمیان ملک آزاد ہوا۔لیکن آزادی کا یہ جشن تھما بھی نہیں تھا کہ 30 جنوری 1948 کو ناتھو رام گوڈسے نے نئی دہلی میں مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں داغ دیں۔ اس وقت ان کی عمر 78 برس تھی۔۔ گاندھی جی کا کہنا تھا کہ عدم تشدد ایک بڑی طاقت ہے اور یہ انسان کا بنایا ہوا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: