ہوم » نیوز » وطن نامہ

راجناتھ سنگھ نے کہا- چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات چیت جاری، لیکن قومی وقار کے ساتھ سمجھوتہ ہرگز نہیں

مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے پر کہا ہے کہ ہم اپنے قومی وقار کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 14, 2020 10:32 PM IST
  • Share this:
راجناتھ سنگھ نے کہا- چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات چیت جاری، لیکن قومی وقار کے ساتھ سمجھوتہ ہرگز نہیں
راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر بات چیت جاری ہے، لیکن قومی وقار کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

جموں: مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے پر کہا ہے کہ ہم اپنے قومی وقار کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے پر فوجی سطح پر بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک مسئلے کو بات چیت کے ذریعے سلجھانے کے حق میں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ایک وقت وہ تھا جب 'کشمیر' کو لیکر بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر زیادہ ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتے تھے، لیکن اب بیشتر ممالک بالخصوص مسلم ممالک پاکستان کی بجائے بھارت کی حمایت کر رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ترقی وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت کی اہم ترجیح ہے اور اگلے پانچ برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی تصویر اتنی بدل جائے گی کہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے لوگ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہمیں بھارت کے ساتھ رہنا ہے۔  اتوار کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جموں کی جن سمواد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارت – چین سرحدی تنازعے پر بات کرتے ہوئے کہا: 'اس وقت بھارت اور چین کے درمیان ایک تنازعہ چل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کی طرف سے سوال پوچھے جارہے ہیں کہ لداخ میں سرحد پر کیا ہورہا ہے۔ وقت وقت پر لوگوں کو اس کی جانکاری فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت ملٹری سطح پر بات چیت چل رہی ہے۔ چین نے بھی خواہش ظاہر کی ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔ ہماری بھی یہی خواہش ہے'۔

راجناتھ سنگھ کا اس معاملے پر مزید کہنا تھا: 'میں اپوزیشن کے دوستوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری سرکار کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھے گی۔ صحیح وقت پر ہم اس کا خلاصہ پیش کریں گے۔ لیکن یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنے قومی وقار کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ ہم آپ کو بھروسہ دلاتے ہیں۔ بھارت اب کمزور بھارت نہیں رہا ہے'۔


راجناتھ سنگھ نے کہا میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنے قومی وقار کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ 
راجناتھ سنگھ نے کہا میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنے قومی وقار کے ساتھ کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔


وزیر دفاع نے بھارت کو 'کشمیر' کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر حاصل ہونے والی حمایت پر کہا: 'پہلے جب کبھی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر جموں وکشمیر کا سوال اٹھتا تھا تو زیادہ تر ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتے تھے بھارت کے ساتھ زیادہ ممالک کھڑا نہیں ہوتے تھے۔ کچھ ہی ممالک خاص طور پر روس بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا'۔ انہوں نے کہا: 'لیکن وزیر اعظم مودی نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پہنچان اتنی بڑھائی ہے کہ اب ہمیں جموں وکشمیر پر مسلم ممالک کی بھی حمایت حاصل ہورہی ہے۔ ہم کچھ مسلم ممالک جیسے ملائیشیا اور ترکی کو چھوڑ دیں تو باقی مسلم ممالک کی ہمیں حمایت حاصل ہے'۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب وادی کشمیر میں پاکستان اور اسلامک سٹیٹ کے جھنڈوں کی بجائے صرف بھارت کا پرچم نظر آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: 'پہلے کشمیر میں آزادی کی مانگ کو لیکر احتجاج ہوتا تھا۔ اس دوران وہاں کشمیر کی بجائے پاکستان اور اسلامک سٹیٹ کے جھنڈے دیکھنے کو ملتے تھے۔ لیکن آج ہم سینہ ٹھوک کر کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہمیں آج کشمیر میں کوئی جھنڈا نظر آتا ہے تو وہ بھارت کا ترنگا ہے'۔ وزیر دفاع نے کہا کہ بی جے پی حکومت سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے نعرے 'کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت' پر آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے کہا: 'ہمارے پیارے رہنما اٹل بہاری واجپائی کشمیر کے معاملے پر کہتے تھے کہ ہم کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم آج بھی اس نعرے پر قائم ہیں۔ ہماری نظر میں کشمیریت میں حضرت بل بھی ہے اور ہماری نظر میں کشمیریت میں بابا امرناتھ یعنی بابا برفانی بھی ہے'۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب وادی کشمیر میں پاکستان اور اسلامک سٹیٹ کے جھنڈوں کی بجائے صرف بھارت کا پرچم نظر آرہا ہے۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب وادی کشمیر میں پاکستان اور اسلامک سٹیٹ کے جھنڈوں کی بجائے صرف بھارت کا پرچم نظر آرہا ہے۔


راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مظفرآباد اور گلگت کا درجہ حرارت بتانے کے بعد سے پاکستان زیادہ ہی شرارت کرنے لگا ہے لیکن اس کی شرارت کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا: 'اب موسم بدل چکا ہے۔ ہمارے چینل اب مظفرآباد اور گلگت کا درجہ حرارت بھی بتاتے ہیں۔ اس درجہ حرارت کی اسلام آباد میں بھی کچھ حرارت محسوس ہونے لگی ہے۔ اس لئے وہ کچھ زیادہ شرارت کرنے پر بھی آمادہ ہیں، لیکن ہمارے سیکورٹی ادارے جموں وکشمیر کی دھرتی پر اس شرارت کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں'۔

راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ترقی مودی حکومت کی اہم ترجیح ہے اور اگلے پانچ برس کے دوران اس یونین ٹریٹری کی تصویر ہی بدل کر رکھ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا: 'جموں وکشمیر کا وکاس ہماری ترجیح ہے۔ اگلے پانچ برسوں کے دوران جموں وکشمیر کی تصویر اتنی بدل جائے گی کہ پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے لوگ بھی رشک کریں گے کہ کاش ہم بھی بھارت میں ہوتے۔ آگے کیا ہوگا کہ وہاں کے لوگ بھی کہیں گے کہ ہم بھارت کے ساتھ رہنا چاہیں گے پاکستان کے ساتھ نہیں'۔ وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت اپنی طاقت کسی کو ڈرانے کے لئے نہیں بڑھا رہا ہے بلکہ وطن کے دفا کے لئے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: 'میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا بھارت محفوظ ہے۔ رافیل کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ رافیل جولائی میں آرہے ہیں۔ ہماری ایئر فورس کی طاقت بڑھ جائے گی۔ ہم طاقت کسی کو ڈرانے کے لئے نہیں بلکہ دفاع کے لئے اپنی طاقت بڑھانا چاہتے ہیں'۔
First published: Jun 14, 2020 08:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading