ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی اسمبلی انتخابات : حتمی ووٹنگ فیصد جاری ، ان دو مسلم علاقوں میں جم کر پڑے ووٹ ، شاہین باغ کا رہا یہ حال

الیکشن کمشنر نے ووٹنگ کے آخری اعداد و شمار جاری کرنے میں ہوئی تاخیر کے لئے وزیراعلی اروند کیجری وال اور عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 09, 2020 10:35 PM IST
  • Share this:
دہلی اسمبلی انتخابات : حتمی ووٹنگ فیصد جاری ، ان دو مسلم علاقوں میں جم کر پڑے ووٹ ، شاہین باغ کا رہا یہ حال
دہلی کے شاہین باغ کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے کیلئے قطاروں میں کھڑے ووٹرس ۔ تصویر : اے پی ۔

دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے 8 فروری کو ہوئی ووٹنگ میں 62.59 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ دہلی کے چیف الیکشن افسر رنبیر سنگھ نے اتوار کو نامہ نگاروں کی کانفرنس میں اس کی اطلاع دی ۔ ہفتہ کو ووٹنگ ختم ہونے کےبعد مسٹر سنگھ نے بتایا تھا کہ 6ء57 فیصد ووٹروں نے اپنے ووٹ ڈالے ہیں ، لیکن انہوں نے کہا تھا کہ کئی پولنگ بوتھوں پر ووٹر ووٹ ڈالنے کےلئے قطار میں کھڑے ہیں اس لئے آخری اعداد و شمار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


انہوں نےبتایا کہ مئی 2019 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں اسمبلی میں تقریبا 2 فیصد زیادہ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ سال 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں 49ء67 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ گزشتہ برس ہوئے لوک سبھا انتخابات میں 06ء60 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔  مسٹر سنگھ نے بتایا کہ 70 سیٹو ں کے لئے ہوئے انتخابات میں مجموعی طور سے 672 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 594 مرد اور 79 خواتین شامل ہیں جبکہ 23 سیٹوں پر کوئی خاتون امیدوار نہیں ہیں۔


مسٹر سنگھ نے ووٹنگ کے آخری اعداد و شمار جاری کرنے میں ہوئی تاخیر کے لئے وزیراعلی اروند کیجری وال اور عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 13780 پولنگ بوتھوں سے ای وی ایم مشینوں کا ڈاٹا اکٹھا کیا جارہا تھا اور اس بات کا بھی خیال رکھنا تھا کہ اعداد و شمار میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ رہ جائے۔ انہوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں ووٹنگ پانچ فیصد کم ہونے کے بارے میں کہا کہ سردی اور چھٹی ہونا اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔


جعفر آباد میں پولنگ بوتھ کے باہر لگی لمبی قطار ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔
جعفر آباد میں پولنگ بوتھ کے باہر لگی لمبی قطار ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔


ای وی ایم میں گڑبڑی کے متعلق مسٹر سنگھ نے کہا کہ بجواسن میں کچھ دقتیں ہوئی تھیں جسے ٹھیک کرلیا گیا تھا۔ بابرپور میں ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ دو لوکیشن پر ہمارے افسر تھے اور مشین کو گاڑی میں رکھنے کے لئے اسٹرانگ روم لے جایا جارہا تھا ، لیکن اس مشین سے ووٹنگ نہیں ہوئی ، اسی سلسلے میں ہمارے افسر کو کچھ لوگوں نے گھیر لیا تھا اور ہمارے افسر نے صحیح جواب دینے کی کوشش کی ، لیکن کسی نے اس پر اعتماد نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ ووٹنگ بلی ماران میں 6ء71 فیصد اور سب سے کم دہلی کینٹ میں 4ء45 فیصد ہوئی۔

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف جاری مشہور علاقہ شاہین باغ سے جڑے اوکھلا میں 84ء58 فیصد اور سلیم پور میں 22ء71 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔  مسٹر سنگھ نے بتایا کہ 62ء62 فیصد مرد اور 55ء62 فیصد خواتین ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ دہلی میں مجموعی طورسے ایک کروڑ 47 لاکھ 86 ہزار 382 ووٹر ہیں۔
First published: Feb 09, 2020 10:31 PM IST