உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mohammed Zubair: محمد زبیر کی گرفتاری کےپیچھےدہلی کاایک تاجر ملوث، دہلی پولیس نےدیابڑابیان

     ان کے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے

    ان کے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے

    Mohammed Zubair: پولیس حکام نے تاجر کا نام ظاہر نہیں کیا۔ جو ہنومان بھکت کے نام سے چلنے والا ٹوئٹر ہینڈل @balajikijaiin چلا رہا تھا، جس کی صرف ایک ہی پوسٹ تھی، بعد میں یہ ہینڈل ڈیلیٹ بھی ہوگیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Lucknow
    • Share this:
      دہلی پولیس نے بتایا ہے کہ حقائق کی جانچ کرنے والے اور آلٹ نیوز (Alt News) کے شریک بانی محمد زبیر (Mohammed Zubair) کی گرفتاری کے پیچھے ٹویٹر کا ایک 36 سالہ صارف ہے، جو کہ دہلی میں رہتا ہے اور وہ رئیل اسٹیٹ کا تاجر ہے۔ اصل میں یہ تاجر راجستھان کے اجمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس حکام نے تاجر کا نام ظاہر نہیں کیا۔ جو ہنومان بھکت کے نام سے چلنے والا ٹوئٹر ہینڈل balajikijaiin@ چلا رہا تھا، جس کی صرف ایک ہی پوسٹ تھی، بعد میں یہ ہینڈل ڈیلیٹ بھی ہوگیا تھا۔

      نیوز 18 ڈاٹ کام کی ایک خبر کے مطابق تاجر نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ اس کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اہلکار نے اس بات کی تفصیلات شیئر نہیں کیں کہ نوٹس کب بھیجی گئی اور بیان کب ریکارڈ کیا گیا۔ محمد زبیر کو 27 جون کو 2018 میں ایک ہندو دیوتا کے خلاف ایک ٹویٹ کے ذریعے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ نفرت انگیز تقریر کے الزام میں 24 دن تک حراست میں تھے اور اب ضمانت پر باہر ہیں۔

      پولیس نے کہا کہ تاجر کے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گمنام ٹویٹر ہینڈل ایک 36 سالہ رئیل اسٹیٹ بزنس مین چلاتا تھا جو اصل میں راجستھان کے اجمیر سے تعلق رکھتا ہے اور اس وقت دوارکا میں رہتا ہے۔ ان تحقیقات سے متعلق ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ آئی پی ایڈریس کا استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر کے جواب کے بعد پولیس نے اس کا سراغ لگایا اور اسے تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے باضابطہ نوٹس بھیجا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Swiggy, Zomato جیسے ایپ سے آن لائن کھانا منگانا 60 فیصد تک مہنگا؟ سروے سے بڑا انکشاف

      پولیس حکام کے مطابق تاجر نے 2018 کی پوسٹ کا نوٹس لیا اور ٹوئٹ کیا، دہلی پولیس کو ٹیگ کیا اور اس پر کارروائی کرنے پر زور دیا کیونکہ اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ بعد میں ایک شکایت درج کرائی گئی، جس کے نتیجے میں اسے گرفتار کیا گیا۔ زبیر کی گرفتاری کے دو دن بعد یہ کاروائی کی گئی۔ تاجر نے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا، تاجر کچھ سال قبل اپنے اہل خانہ کے ساتھ اجمیر سے دہلی منتقل ہوا تھا، پولیس نے بتایا کہ اس کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔
      یہ بھی پڑھیں: 

      مرد اس خاتون کو گڑیا کے طور پر سمجھتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں نہیں رکھنا چاہتا کوئی رشتہ، جانئے پورا ماجرا

      واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت دینے کے بعد محمد زبیر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں مجرمانہ سازش (دفعہ 120B)، مذہب نسل جائے پیدائش اور زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا (دفعہ 153 اے) اور جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا (دفعہ 295 اے) شامل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: