உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi: قطب مینار احاطے میں مورتیاں نصب کرکے پوجا کرنے اور 27 مندر ہونے کے دعوے پر مرکز اور ASI سے عدالت نے مانگا جواب

    قطب مینار: کہا جاتا ہے کہ یہ اینٹوں سے بنا دنیا کا سب سے اونچا مینار ہے۔ اس خوبصورت اور تاریخی عمارت کو 1993 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

    قطب مینار: کہا جاتا ہے کہ یہ اینٹوں سے بنا دنیا کا سب سے اونچا مینار ہے۔ اس خوبصورت اور تاریخی عمارت کو 1993 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

    درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ 1198 میں مغل بادشاہ قطب الدین ایبک کے دور میں 27 ہندو اور جین مندروں کی بے حرمتی اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ قوۃ الاسلام مسجد ان مندروں کی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ سول جج نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے موجودہ وقت میں امن کو خراب کرنے کی بنیاد نہیں بنائی جا سکتی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت(Delhi Court)نے قطب مینار(Qutub Minar)کمپلیکس میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی مورتیوں کی تنصیب کرنے اور وہاں ان کی پوجا کی اجازت دینے کی درخواست پر مرکز اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (Archaeological Survey Of India) سے جواب مانگا ہے۔ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل وشنو جین نے کہا کہ عدالت نے مرکزی حکومت، وزارت ثقافت کے ذریعے دہلی زون کے سپرنٹنڈنٹ آثار قدیمہ کے اے ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2021 میں سول سوٹ کی منسوخی کو مجسٹریٹ عدالت نے چیلنج کیا تھا، جس پر یہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

      11 مئی تک عدالت نے مانگا جواب
      قطب مینار احاطے میں 27 مندروں کے دعوے پر عدالت نے منگل کو مرکزی حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے لارڈ وشنو اور جین دیوتا تیرتھنکر لارڈ رشبھ دیو کی طرف سے نچلی عدالت کے حکم کے خلاف دائر اپیل پر نوٹس جاری کیا ہے۔

      ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج پوجا تلوار نے متعلقہ افسران کو 11 مئی تک اپنے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ کیس کی آگے کی سماعت اسی روز ہوگی۔

      جج نے جین کی جانب سے دائر اپیل کو قبول کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ اپیل میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد غوری کے سپہ سالار (جنرل) قطب الدین ایبک نے 27 مندروں کو جزوی طور پر منہدم کر دیا تھا اور اس مواد سے احاطے میں قوۃ الاسلام مسجد تعمیر کی تھی۔

      عدالت نے خارج کیا مقدمہ
      سول کورٹ کی جج نیہا شرما نے 9 دسمبر کو کیس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ’ہندوستان کی ثقافتی اعتبار سے بھرپور تاریخ رہی ہے۔ اس پر کئی خاندانوں کی حکومت رہی ہے۔ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ 1198 میں مغل بادشاہ قطب الدین ایبک کے دور میں 27 ہندو اور جین مندروں کی بے حرمتی اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ قوۃ الاسلام مسجد ان مندروں کی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ سول جج نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے موجودہ وقت میں امن کو خراب کرنے کی بنیاد نہیں بنائی جا سکتی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: