ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا سانحہ : چاروں قصورواروں کے قانونی آپشنز ختم ، کل ہونی ہے پھانسی

قصوروار پون کی عرضی کی سماعت پیر کو پانچ ججوں کی بینچ نے کی ، جس میں جسٹس این وی رمن ، جسٹس ارون مشرا ، جسٹس آر ایف نریمن ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس اشوک بھوشن شامل تھے ۔

  • Share this:
نربھیا سانحہ : چاروں قصورواروں کے قانونی آپشنز ختم ، کل ہونی ہے پھانسی
نربھیا سانحہ : چاروں قصورواروں کے قانونی آپشنز ختم ، کل ہونی ہے پھانسی

نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل کیس کے قصوروار پون گپتا کی کیوریٹیو پٹیشن پیر کو سپریم کورٹ نے خارج کردی ۔ اس طرح پون بھی اپنے سبھی قانونی آپشنز کا استعمال کرچکا ہے ۔ تاہم پون کے پاس فی الحال صدر جمہوریہ کے پاس رحم کی عرضی داخل کرنے کا آپشن باقی ہے ۔ حالانکہ رحم کی عرضی قانونی آپشن کے دائرے میں نہیں آتی ہے ۔ اس طرح نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل کیس کے سبھی قصورواروں کے سبھی قانونی آپشنز ختم ہوچکے ہیں ۔ ایسے میں قانونی طور پر سبھی قصورواروں کو تین مارچ کو پھانسی پر لٹکانے کا راستہ صاف ہوچکا ہے ۔ بتادیں کہ پٹیالہ ہاوس کورٹ نے چاروں قصورواروں کے خلاف تین مارچ کیلئے ڈیتھ وارنٹ جاری کیا ہے ۔



قصوروار پون کی عرضی کی سماعت پیر کو پانچ ججوں کی بینچ نے کی ، جس میں جسٹس این وی رمن ، جسٹس ارون مشرا ، جسٹس آر ایف نریمن ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس اشوک بھوشن شامل تھے ۔

خیال رہے کہ پون نے جرم کے وقت خود کو نابالغ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پھانسی کو عمر قید میں بدلنے کی درخواست کی تھی ۔ پون نے وکیل اے پی سنگھ کے ذریعہ کیوریٹیو عرضی داخل کرکے معاملہ میں اپیل اور نظر ثانی کی عرضیوں پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو خارج کرنے کی درخواست بھی کی تھی ۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں 16 دسمبر 2012 کو چلتی بس میں ایک طالبہ کی اجتماعی آبروریزی کا شرمناک واقعہ پیش آیا تھا ۔ یہی نہیں قصورواروں نے انتہائی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ کو بس سے پھینک بھی دیا تھا ۔ علاج کے دوران متاثرہ کی موت ہوگئی تھی ۔
First published: Mar 02, 2020 12:36 PM IST