உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جہانگیر پوری تشدد میں زخمی ASI نے کہا- میں نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا

    جہانگیر پوری تشدد میں زخمی ASI نے کہا- میں نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا

    جہانگیر پوری تشدد میں زخمی ASI نے کہا- میں نے جو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا

    Delhi Jahangirpuri Violence News: پولیس افسر نے اے این آئی سے کہا کہ زیادہ تر فسادیوں کے پاس تلوار اور چاقو تھے۔ جلوس میں کچھ لوگوں نے سریا اور تلوار سے حملہ کیا۔ فسادیوں نے کئی گاڑیوں پر آگ بھی لگا دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں شامل لوگوں میں خواتین بچے اور بزرگ لوگ بھی تھے۔ میں وہاں پر موجود کچھ گاڑیوں کو ہٹا رہا تھا، تب میرے کندھے پر ایک اینٹ گری میرے پیٹھ پر بھی میں بھی پتھر گرے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: گزشتہ کچھ دنوں مین ملک کے الگ الگ ریاستوں میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تشدد (Communal Violence) کی مسلسل خبریں سامنے آرہی ہیں۔ رام نومی کے بعد اب ہنومان جینتی (Hanuman Jayanti) پر دہلی کے جہانگیر پوری (Jahangirpuri Violence News) میں بھی تشدد اور آگ زنی دیکھنے کو ملی۔ علاقے میں پیش آئے تشدد میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور معاملے میں اب تک تقریباً 14 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ جہانگیر پوری تشدد (jahangirpuri violence Update) میں زخمی اے ایس آئی ارون کمار نے حادثہ کا آنکھوں دیکھا حال بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے دوران جو حالات تھے، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

      ارون کمار نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میں شوبھا یاترا میں شروع سے ہی تھا۔ میں دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ اس گاڑی سے کچھ دور پر تھا، جس میں ہنومان یاترا نکالا جا رہا تھا۔ ارون کمار نے کہا کہ جیسے ہی یاترا کشل چوک پہنچی، اچانک سے ہزاروں کی تعداد میں ایک بھیڑ سامنے سے آگئی۔



      اے ایس آئی نے کہا، ’ہم نے دونوں فریق سے بات کی اور لوگوں کو سمجھانے کی کافی کوشش کی، لیکن دونوں ہی فریق کسی بھی طرح سے ماننے کو تیار نہیں تھے۔ دھیرے دھیرے فریق کے درمیان گالی گلوچ کے ساتھ بحث چھڑ گئی اور پھر وہاں بھگدڑ مچنے لگی۔

      اے ایس آئی ارون کمار نے کہا کہ تشدد کے دوران جہانگیر پوری میں ہر طرف لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ لوگ اچانک اپنی گاڑی چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ میں تشدد متاثرہ علاقے سے سبھی کو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، میں لوگوں کو بچانے میں لگا ہوا تھا، تبھی میرے اوپر پتھراو کیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      آندھرا پردیش: کرنول میں ہنومان جینتی کے موقع پر مسجد کے پاس نعرے بازی سے کشیدگی

      پولیس افسر نے کہا کہ زیادہ تر فسادیوں کے پاس تلوار اور چاقو تھے۔ جلوس میں کچھ لوگوں نے سریا اور تلوار سے حملہ کیا۔ فسادیوں نے کئی گاڑیوں پر آگ بھی لگا دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں شامل لوگوں میں خواتین بچے اور بزرگ لوگ بھی تھے۔ میں وہاں پر موجود کچھ گاڑیوں کو ہٹا رہا تھا، تب میرے کندھے پر ایک اینٹ گری میرے پیٹھ پر بھی پتھر گرے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      اکھلیش یادو کو چھوڑ کر اسدالدین اویسی کے ساتھ جائیں گے اعظم خان؟ AIMIM نے دی دعوت

      پولیس ڈپٹی کمشنر (شمال-مغرب) اوشا رنگنانی نے بتایا کہ ہفتہ کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 147 (فساد) اور ہتھیار ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ رنگنانی نے کہا، ’ایف آئی آر کے متعلق میں اب تک نو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے‘۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ پانچ مزید لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رنگنانی کے مطابق، تشدد میں کل نو لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں آٹھ پولیس اہلکاروں اور ایک عام شہری شامل ہے اور سبھی کا علاج بابو جگجیون رام میموریل اسپتال میں چل رہا ہے۔

      پولیس ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایک سب انسپکٹر کو گولی لگی ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہانگیر پوری میں اتوار صبح جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود تھا اور حالات پر نظر رکھنے کے لئے تیز رفتار افرادی قوت بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ رنگنانی کے مطابق، فی الحال علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: