உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi News: پھر سے کھلیں گی نظام الدین مرکز کی چار منزلیں ، دہلی ہائی کورٹ نے نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پرعائد پابندی ہٹائی

    Nizamuddin Markaz : دہلی ہائی کورٹ نے نظام الدین مرکز  بلڈنگ کی چار منزلوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ اجازت شب برات کے تہوار کے لیے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پر عائد پابندی بھی ہٹا دی ہے۔

    Nizamuddin Markaz : دہلی ہائی کورٹ نے نظام الدین مرکز بلڈنگ کی چار منزلوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ اجازت شب برات کے تہوار کے لیے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پر عائد پابندی بھی ہٹا دی ہے۔

    Nizamuddin Markaz : دہلی ہائی کورٹ نے نظام الدین مرکز بلڈنگ کی چار منزلوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ اجازت شب برات کے تہوار کے لیے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پر عائد پابندی بھی ہٹا دی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے نظام الدین مرکز  (Nizamuddin Markaz)  بلڈنگ کی چار منزلوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے یہ اجازت شب برات کے تہوار کے لیے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد پر عائد پابندی بھی ہٹا دی ہے۔ دراصل مارچ 2020 میں کورونا کی وبا کے درمیان تبلیغی جماعت کے ایک پروگرام اہتمام کیا گیا تھا، تب سے مرکز کی مسجد کو مبینہ طور پر اصولوں کی خلاف ورزی پر بند کر دیا گیا تھا۔ اب دہلی ہائی کورٹ نے ایک مرتبہ پھر اس کو (نظام الدین مرکز) کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس دوران کورونا قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ہندوستانی میزائل گرتے ہی پاکستان میں مچ گیا تھا ہنگامہ، اٹھانے والا تھا یہ بڑا قدم!


      نظام الدین مرکز میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے پروگرام اور وہاں غیر ملکیوں کے قیام کے سلسلے میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔ سال 2020 میں یہ ایف آئی آر وبائی امراض ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، غیر ملکی قانون اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی تھیں۔

      تاہم اس سال 15 مارچ کو پولیس نے دہلی وقف بورڈ کی درخواست پر عمارت کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی۔ نظام الدین پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے وقف بورڈ کی درخواست پر اجازت دیتے ہوئے کچھ شرائط عائد کی تھیں ، جن میں سے ایک عبادت کیلئے آنے والے لوگوں کی تعداد کو 100 سے کم تک محدود کرنا تھا۔ جس کے بعد وقف بورڈ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے :  پولیس نے سرینگر میں تین ملی ٹینٹوں کو مار گرایا، سرپنچ سمیر احمد کے قتل میں تھے ملوث


      نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے پیچھے کی دلیل پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس منوج کمار اوہری نے کہا کہ تعداد کا ایہ اندازہ کس کا تھا؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا لوگوں کی تعداد پر کوئی پابندی لگائی گئی ہے؟ جج نے سوال کیا کہ تعداد پر پابندی کا حکم کہاں ہے؟ جج نے کہا کہ جب مرکز انتظامیہ کورونا پروٹوکول برقرار رکھنے کیلئے کہہ رہی ہے ، تو ٹھیک ہے، اسے عقیدت مندوں کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہئے۔

      دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ مرکز انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عقیدت مندوں کے ان مخصوص منزلوں پر جانے کے دوران کووڈ پروٹوکول اور سماجی فاصلہ پر عمل کیا جائے ۔ عدالت نے بورڈ کی درخواست پر بنگلہ والی مسجد کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے پولیس کی طرف سے عائد کی گئی کچھ شرائط میں بھی ترمیم کی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: