کشمیر میں سینکڑوں لوگوں کا حوالہ دے کر شاہ فیصل نے حراست کے خلاف اپنی عرضی لی واپس

مرکز کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بینچ کو بتایا کہ وہ عرضی واپس لینے کیلئے فیصل کی بیوی کی جانب سے داخل حلف نامہ کے مواد کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔

Sep 12, 2019 10:54 PM IST | Updated on: Sep 12, 2019 10:54 PM IST
کشمیر میں سینکڑوں لوگوں کا حوالہ دے کر شاہ فیصل نے حراست کے خلاف اپنی عرضی لی واپس

شاہ فیصل ۔ فائل فوٹو ۔

جموں و کشمیر میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کی نوکری چھوڑ کر سیاست میں آئے شاہ فیصل نے اپنی حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی واپس لینے کی اجازت طلب کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے سینکڑوں باشندوں کو غیر قانونی طریقہ سے حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی قانونی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے انہیں اس کی اجازت بھی دیدی ہے ۔

سابق آئی اے ایس افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی غیر قانونی حراست کے خلاف عرضی کو آگے بڑھانے کے خواہشمند نہیں ہیں ، کیونکہ حراست میں لئے گئے زیادہ تر لوگوں کے پاس کوئی وکیل یا دیگر قانونی متبادل دستیاب نہیں ہے ۔

Loading...

مرکز کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جسٹس منموہن اور جسٹس سنگیتا دھینگرا سہگل کو بتایا کہ وہ عرضی واپس لینے کیلئے فیصل کی بیوی کی جانب سے داخل حلف نامہ کے مواد کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔

اس سلسلہ میں فیصل کی بیوی کی جانب سے حلف نامہ داخل کئے جانے کے بعد ہائی کورٹ نے سابق نوکرشاہ کو عرضی واپس لینے کی اجازت دیدی ۔ فیصل کی بیوی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ حال ہی میں ان سے حراست میں ملی تھیں اور اس کو عرضی کو واپس لینے کی ہدایت ملی ہے ، جس کے تحت حراست میں یا غیر قانونی حراست میں رکھے گئے شخص کو عدالت کے سامنے پیش کیا جاسکے ۔

فیصل کی بیوی نے کہا کہ 10 ستمبر کو میں عرضی گزار فیصل سے 11:30 بجے سے دوپہر 12 بجے تک سری نگر کے شیر کشمیر بین الاقوامی کانفرنس سینٹر میں واقع حراستی سینٹر میں ملی تھی ، جہاں انہیں رکھا گیا ہے ۔ اس ملاقات کے دوران مجھے عرضی گزار کی جانب موجودہ عرضی واپس لینے کیلئے واضح طورپر زبانی پیغام ملا تھا ۔

Loading...