உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اوم پرکاش چوٹالہ کی اپیل پر دہلی ہائی کورٹ نے CBI کو جاری کیا نوٹس، جانئے پورا معاملہ

    دراصل اوم پرکاش چوٹالہ نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 4 سال قید کی سزا کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دراصل اوم پرکاش چوٹالہ نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 4 سال قید کی سزا کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    دراصل اوم پرکاش چوٹالہ نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 4 سال قید کی سزا کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      دہلی ہائی کورٹ نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کی غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دراصل اوم پرکاش چوٹالہ نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 4 سال قید کی سزا کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

      آپ کو بتا دیں کہ 27 مئی کو اوم پرکاش چوٹالہ کی غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں سزا پر فیصلہ سنایا گیا تھا۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ، جنہیں دہلی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے غیر متناسب اثاثہ جات کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا تھا، انہیں چار سال قید کی سزا سنائی گئی اور ساتھ ہی 50 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ یہی نہیں عدالت نے چوٹالہ کی چار جائیدادوں کو بھی ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔

      عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
      عدالت نے اوم پرکاش چوٹالہ کو عدالت کے کمرے سے ہی تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔ اس طرح چوٹالہ عدالت سے سیدھے جیل چلے گئے۔ چوٹالہ کی جانب سے اس معاملے میں اپیل دائر کرنے کے لیے 10 دن کا وقت مانگا گیا، جس پر جج نے کہا کہ آپ ہائی کورٹ جائیں۔ بتادیں کہ جمعرات کو سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

      VIVO کے دفتر میں ED کے چھاپے سے بھڑکا چین، کہا۔ کمپنیوں کا بھروسہ ٹوٹے گا



      مرکزی حکومت کی ہر گھر ترنگامہم پر سوال، جموں و کشمیر کے سابقCM بولے- وہ اپنے گھر میں رکھنا

      کیا ہے معاملہ ؟
      دراصل خصوصی جج وکاس دھول نے او پی چوٹالہ اور سی بی آئی کے وکلاء کی سزا پر دلائل کی سماعت کی تھی، جنہیں سال 1993 سے 2006 کے دوران غیر متناسب اثاثے بنانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ بحث کے دوران او پی چوٹالہ نے بڑھاپے اور طبی بنیادوں پر کم از کم سزا دینے کی درخواست کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے معاشرے کو پیغام جائے گا۔ ایجنسی نے کہا تھا کہ چوٹالہ کی کوئی صاف تاریخ نہیں ہے اور یہ دوسرا معاملہ ہے جس میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: