உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Big News: دہلی ہائی کورٹ نے کہا : مسلم لا میں جوان لڑکی کو مرضی سے شادی کی اجازت

    Big News: دہلی ہائی کورٹ نے کہا : مسلم لا میں جوان لڑکی کو مرضی سے شادی کی اجازت

    Big News: دہلی ہائی کورٹ نے کہا : مسلم لا میں جوان لڑکی کو مرضی سے شادی کی اجازت

    Muslim Girl Marriage Case : دہلی ہائی کورٹ نے بہار کے ایک مسلم جوڑے کو پولیس تحفظ فراہم کیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ مسلم لا کے مطابق کوئی لڑکی جو بلوغت کی عمر تک پہنچ چکی ہے، وہ ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرسکتی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے بہار کے ایک مسلم جوڑے کو پولیس تحفظ فراہم کیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ مسلم لا کے مطابق کوئی لڑکی جو بلوغت کی عمر تک پہنچ چکی ہے، وہ ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرسکتی ہے ۔ ساتھ ہی اس کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے حق بھی ہے ۔ جوڑے نے اسی سال بہار کے اوریا ضلع میں مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کی تھی ۔ جسٹس جسمیت سنگھ کی بینچ نے یہ بھی کہا کہ جہاں شادی کے بعد ہی فیزیکل ریلیشن بنائے جاتے ہیں، ان معاملات میں پاکسو ایکٹ لاگو نہیں ہوتا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پیغمبر اسلام کے خلاف متنازع تبصرہ معاملہ میں سخت کاروائی ہونی چاہئے: مولانا محمود مدنی


      جسٹس جسمیت سنگھ کی بینچ نے اس جوڑے کو پولیس تحفظ دیا ہے ۔ جوڑے نے اسی سال ارویا ضلع میں مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کی تھی ۔ شادی کے بعد جوڑے نے کورٹ سے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی پولیس کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ لڑکی کے اہل خانہ نے اس شادی کی مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد لڑکے کے شوہر پر آئی پی سی کی دفعہ 376 ( آبروریزی) اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ چھ کے تحت کیس درج کروایا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: بی جے پی سے معطل MLA ٹی راجا کو ملی ضمانت، پیغمبر اسلام کے خلاف کیا تھا تبصرہ


      لڑکی کے اہل خانہ کے مطابق شادی کے وقت لڑکی کی عمر تقریبا پندرہ سال پانچ مہینے تھی اور شادی کے بعد وہ حاملہ ہوگئی تھی ۔ جسٹس سنگھ نے کہا کہ عرضی گزار میاں بیوی قانونا شادی شدہ ہیں ۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر دونوں کو الگ کیا تو یہ لڑکی اور اس کے ہونے والے بچے کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔

      ہمارا مقصد لڑکی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔ اگر اس نے شادی کیلئے رضامندی دی ہے اور وہ خوش ہے تو ریاست اس کی ذاتی زندگی میں دخل دینے اور انہیں الگ کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ایسا کرنا اس کی پرائیویسی پر حملہ کرنا ہوگا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: