ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد:جمعیت علماءہندکی عرضداشت پردہلی ہائی کورٹ میں سماعت،دہلی پولیس کودی گئی یہ اہم ہدایت

جمعیت علمائے ہند کی درخواست پر پیر کو جاری کردہ اس نوٹس میں ، ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو تشدد سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

  • Share this:
دہلی تشدد:جمعیت علماءہندکی عرضداشت پردہلی ہائی کورٹ میں سماعت،دہلی پولیس کودی گئی یہ اہم  ہدایت
دہلی ہائی کورٹ ۔ فائل فوٹو

دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی کے متعدد علاقوں میں تشدد کے معاملے میں دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی درخواست پر پیر کو جاری کردہ اس نوٹس میں ، ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو تشدد سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت 27 مارچ کو ہوگی۔یہ نوٹس دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہریشنکر کے بنچ نے جاری کیا ہے۔ اس معاملے میں سماعت 27 مارچ کو ہوگی۔


جمعیت علمائے ہند کی اس عرضداشت میں ، درخواست کی گئی تھی کہ دہلی پولیس کو 23 فروری سے یکم مارچ تک فسادات سے متاثرہ علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کی ہدایت کی جائے۔اس کے علاوہ درخواست کی گئی ہے کہ پولیس کو فساد متاثرہ علاقوں سے سے شواہد اکٹھا کیے بغیر ملبہ کو صاف نہ کرنے کی ہدایت دیں۔


دہلی ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے ہند کی جانب سے تشددکے دوران لیے گئے ویڈیو فوٹیج کو محفوظ رکھنے کے لئے دائر درخواست پر مرکز حکومت ، دہلی پولیس اور دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی مطالبہ کیاگیاہے۔


درخواست میں تشدد میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو بھی شامل کرکے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیاگیاہے ۔ یادرہے کہ شمال مشرقی دہلی کے متعدد علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت 50 سے زیادہ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی دوران ، اس تشدد میں 250 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
First published: Mar 16, 2020 01:31 PM IST