உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تبلیغی جماعت مرکز بنگلہ والی مسجد کھولے جانے کا دہلی ہائی کورٹ نے نکالا راستہ

    تبلیغی جماعت مرکز بنگلہ والی مسجد کھولے جانے کا دہلی ہائی کورٹ نے نکالا راستہ

    تبلیغی جماعت مرکز بنگلہ والی مسجد کھولے جانے کا دہلی ہائی کورٹ نے نکالا راستہ

    شب برات اور رمضان المبارک میں تبلیغی جماعت کے مرکز نظام الدین کی مسجد بنگلہ والی کو کھولنے کا راستہ بنتا نظر آرہا ہے دراصل ہائیکورٹ میں دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر اہم سماعت ہوئی ہے، جس کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ سے کہا ہے کہ وہ مسجد میں نماز کے تعلق سے اجازت اور اس کا طریقہ کار کار کیا ہو اس کے لیے مقامی پولیس اسٹیشن یعنی تھانہ حضرت نظام الدین میں اپلائی کریں۔

    • Share this:
    نئی دہلی: شب برات اور رمضان المبارک میں تبلیغی جماعت کے مرکز نظام الدین کی مسجد بنگلہ والی کو کھولنے کا  راستہ بنتا نظر آرہا ہے دراصل ہائیکورٹ میں دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر اہم سماعت ہوئی ہے، جس کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے دہلی وقف بورڈ سے کہا ہے کہ وہ مسجد میں نماز کے تعلق سے اجازت اور اس کا طریقہ کار کار کیا ہو اس کے لیے مقامی پولیس اسٹیشن یعنی تھانہ حضرت نظام الدین میں اپلائی کریں۔ مقامی پولیس اس معاملے میں طریقہ کار کو وضع کرے گی اور یہ طے کرے گی کہ کس طریقے سے مرکز نظام الدین کی مسجد بنگلہ والی کو کھولا جا سکتا ہے اور کتنے لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے اگر اس سلسلے میں کوئی اختلاف ہوتا ہے تو  16 مارچ کو ردہلی ہائی کورٹ اس معاملے میں سماعت کرے گا۔
    اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران دہلی وقف بورڈ کے وکیل نے مرکز کی طرف سے پیش کی گئی اس پیشکش کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کی ایک منزل کھولنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جس طریقہ سے گزشتہ سال صرف پچاس لوگوں کو نماز پڑھنے کی رمضان اور شب برات کے موقع پر اجازت دی گئی تھی اسی طریقے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔دہلی وقف بورڈ کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں کہا گیا جب دہلی میں کرونا کی وجہ سے کوئی پابندی عائد نہیں ہے اور تمام مذہبی مقامات کھولے جا چکے ہیں تو پھر مرکز کی مسجد کو کھولے جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

    مرکزی حکومت کے ذریعے سے اس پورے معاملے کو پراپرٹی کا معاملہ بتانے پر دہلی وقف بورڈ کے وکیل وجیہ شفیق نے کہا مسجد کی جگہ عبادت کے لیے ہوتی ہے جہاں پر عبادت ہونی چاہیے اس سلسلے میں دہلی وقف بورڈ کا حق ہے کہ وہ وقف جائیداد کو گورن کرے اس کا انتظام کرے اس کو یہ حق نہیں مل پارہا ہے۔دہلی وقف بورڈ کے وکیل وجیہ شفیق نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال روہنی کی عدالت میں دھماکا ہو گیا تھا، لیکن اس جگہ کو بند نہیں کیا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    اترپردیش، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور کے لئے BJP نے نامزد کئے آبزرور

    اسی طرح سے دہلی ہائی کورٹ کے باہر گیٹ نمبر 5 کے پاس ایک دھماکا ہوا ماضی میں ہو چکا ہےلیکن دہلی ہائی کورٹ کو بھی بند نہیں کیا گیا۔ دہلی وقف بورڈ کے وکیل  کا کہنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ مسجد کو پوری طریقہ سے کھول لیا جائے کیونکہ کرونا کی وجہ سے اب کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہےغور طلب ہے کہتبلیغی جماعت مرکز کیس میں دہلی ہائی کورٹ میں گزشتہ مرتبہ سماعت کے دوران مرکز کی طرف سے ایک نئی پیشکش کی گئی تھی، کہ مسجد بنگلہ والی کی ایک منزل کھولنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اسی پیشکش پر مرکز کے وکیل قائم رہے۔

    اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ رمضان اور شب برات کے حوالے سے مسجد کھولنے کی درخواست پر تین ہفتے قبل سماعت کے دوران ڈی ڈی ایم اے کے رہنما خطوط کے تحت مرکز کی مسجد کو کھولنے کے بارے میں مرکز کی ہی جانب سے کہاں گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یعنی ڈی ڈی این اے کے رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے مرکز کی مسجد کو پورے طریقے سے کھولا جاسکتا ہے، لیکن بعد میں مرکزی حکومت کے وکیل اس پیشکش سے پیچھے ہٹ گئے تھے اور پچاس لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی بات کرنے لگے تھے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: