உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی جامع مسجد کے باہر احتجاج کے معاملے میں پولیس کی کارروائی، دو لوگوں کو گرفتار کیا

    Jama Masjid protest in Delhi: پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف آئی پی پی کی دفعہ 188 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ڈی سی پی شویتا چوہان نے اس بارے میں بتایا تھا کہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لئے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ اس ضمن میں ہی یہ کارروائی کی گئی تھی۔

    Jama Masjid protest in Delhi: پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف آئی پی پی کی دفعہ 188 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ڈی سی پی شویتا چوہان نے اس بارے میں بتایا تھا کہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لئے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ اس ضمن میں ہی یہ کارروائی کی گئی تھی۔

    Jama Masjid protest in Delhi: پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف آئی پی پی کی دفعہ 188 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ڈی سی پی شویتا چوہان نے اس بارے میں بتایا تھا کہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لئے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ اس ضمن میں ہی یہ کارروائی کی گئی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جامع مسجد میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ کے بعد پولیس نے گزشتہ رات دو لوگوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ ڈی سی پی سینٹرل ڈسٹرکٹ شویتا چوہان کے مطابق، اب اس معاملے میں دفعہ 153 اے بھی جوڑ دی گئی ہے۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کے معاملے کی وجہ سے معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما اور معطل لیڈر نوین جندل کے خلاف گزشتہ جمعہ کو جامع مسجد کے باہر لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

      ہفتہ کے روز اس معاملے نامعلوم افراد کے خلاف آئی پی پی کی دفعہ 188 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ڈی سی پی شویتا چوہان نے اس بارے میں بتایا تھا کہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر لئے ہوئے نعرے بازی کی تھی۔ اس ضمن میں ہی یہ کارروائی کی گئی تھی۔دہلی کی جامع مسجد کے باہر مسلم طبقے کے افراد کی طرف سے کئے گئے احتجاجی مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے مسجد کے باہر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے تھے۔ ہفتہ کی صبح سے ہی وہاں پولیس کا پہرا دکھائی دینے لگا تھا۔

      واضح رہے کہ جمعہ کے روز پیغمبر محمد صلی اللہ پر تبصرہ کرنے والیں بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کو لے کر دہلی میں جامع مسجد سے لے کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس تک میں احتجاج ہوا تھا۔ بعد نماز جمعہ جامع مسجد کے باہر لوگوں نے جم کر احتجاج کیا اور نوپور شرما سمیت دیگر لوگوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ اس دوران جامع مسجد کے باہر بھاری بھیڑ دیکھی گئی تھی۔ حالانکہ پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرلیا تھا۔

      دوسری جانب جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے اس احتجاج سے متعلق کہا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ احتجاج کرنے والے کون ہیں، مجھے لگتا ہے کہ وہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) یا اسدالدین اویسی کے لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے واضح کردیا ہے کہ اگر وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں، تو وہ کرسکتے ہیں، لیکن ہم ان کی حمایت نہیں کریں گے۔ بعد نماز جمعہ صرف دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے مختلف حصوں میں بھی احتجاج کیا گیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: