உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی کے LG نےلوفلور بسوں کی خرید میں‘بے ضابطگی‘ سے متعلق شکایت CBI کو بھیجی

    دہلی کے ایل جی نے لو فلور بسوں کی خرید میں‘بے ضابطگی‘ سے متعلق سی بی آئی شکایت کو بھیجی

    دہلی کے ایل جی نے لو فلور بسوں کی خرید میں‘بے ضابطگی‘ سے متعلق سی بی آئی شکایت کو بھیجی

    دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے ڈی ٹی سی کے ذریعہ 1,000 لو فلور بسوں کی خرید میں مبینہ بدعنوانی کی جانچ کے لئے سی بی آئی کو شکایت بھیجنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کے ذریعہ 1,000 لو فلور بسوں کی خرید میں مبینہ بدعنوانی کی جانچ کے لئے سی بی آئی کو شکایت بھیجنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ سرکاری ذرائع نے یہ جانکاری دی۔ اس سال جون میں وی کے سکسینہ کو متعلقہ ایک شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈی ٹی سی نے ‘پہلے سے منصوبہ بند طریقے سے‘ وزیر ٹرانسپورٹ کو بسوں کی ٹینڈر اور خریداری کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔

      شکایت میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ اس ٹینڈر کے لئے بولی کے انتظام کے مشیر کے طور پر ڈی آئی ایم ٹی ایس کی تقرری غلط کاموں کو آسان بنانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ شکایت میں کہا گیا کہ 1,000 لو فلور بی ایس-4 اور بی ایس-6 بسوں کے لئے جولائی 2019 کی خرید بولی اور مارچ 2020 میں لو فلور بی ایس-6 بسوں کی خرید اور سالانہ رکھ رکھاو کے معاہدہ کے لئے لگائی گئی دوسری بولی میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      اویسی نے کی ’مخلوط حکومت‘ کی وکالت، کہا ملک کو کمزور PM کی ضرورت

      یہ بھی پڑھیں۔

      علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے قرآن شریف کا نایاب نسخہ 

      گزشتہ 22 جولائی کو شکایت پر دہلی حکومت کے محکموں کا ردعمل جاننے کے لئے چیف سکریٹری کے پاس بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری نے 19 اگست کو رپورٹ سونپی، جس میں کچھ ‘بے ضابطگیوں‘ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اسک ے بعد وی کے سکسینہ نے شکایت سی بی آئی کو بھیج دی۔

      دہلی میں بی جے پی کے لیڈران کافی وقت سے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی حکومت پر 1000 لو فلور بسوں کی خرید میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کیجریوال حکومت نے ان بسوں کی خرید وفروخت کا سودا 875 کروڑ روپئے میں کیا۔ اس سودے میں بسوں پرتین سال کی وارنٹی دی گئی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت نے بس کے سودے کا ٹینڈر نکالتے وقت اینوئل مینٹیننس کانٹریکٹ کو ٹینڈر کے ساتھ نہیں جوڑا۔ بسوں کی خرید کا سودا ہونے کے 3-4 ماہ کے بعد الگ سے ایک ٹینڈر نکال کر اس میں 3500 کروڑ روپئے کا اینوئل مینٹیننس کانٹریکٹ کمپنی کے ساتھ کیا گیا۔ یہ ایک گھوٹالے کا اشارہ ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: