உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi Excise Policy: دہلی کے سابق ایکسائز کمشنر و ڈی سی کو معطل کرنے کا حکم، 11 افسران پر ہوگی کارروائی

    Delhi Excise Policy: کیجریوال حکومت (Kejriwal Government) نے نئی ایکسائز پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد اسے واپس لے لیا ہے۔ لیکن اب اس معاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔

    Delhi Excise Policy: کیجریوال حکومت (Kejriwal Government) نے نئی ایکسائز پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد اسے واپس لے لیا ہے۔ لیکن اب اس معاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔

    Delhi Excise Policy: کیجریوال حکومت (Kejriwal Government) نے نئی ایکسائز پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد اسے واپس لے لیا ہے۔ لیکن اب اس معاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔

    • Share this:
      Delhi Excise Policy: دہلی حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی (New Excise Policy) کو لے کر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کیجریوال حکومت (Kejriwal Government) نے نئی ایکسائز پالیسی کو نافذ کرنے کے بعد اسے واپس لے لیا ہے۔ لیکن اب اس معاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔

      ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کے حکم پر دہلی حکومت کے اس وقت کے ایکسائز کمشنر آئی اے ایس اروا گوپی کرشنا اور ڈینک کے افسر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر آنند کمار تیواری کو معطل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کے حکم پر چیف سکریٹری کی جانب سے باقی 9 افسران اور ملازمین کو معطل اور بڑی تادیبی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ معطل کیے جانے والے افسران کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔



       

      خاتون کے ساتھ کی تھی چھیڑچھاڑ، Metro Card نے تین ماہ بعد کرایا گرفتار
      مہنگائی کا ایک جھٹکا، دہلی میں بڑھے PNG کے دام، IGL نے فی یونٹ میں 2.63 روپے کا کیا اضافہ

      ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ ایکسائز کے 3 دیگر ایڈہاک ڈینک افسران اور 4 دیگر افسران کے خلاف بھی معطلی اور بڑی تادیبی کارروائی کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ ایل جی نے یہ فیصلہ متعلقہ حکام کی جانب سے ایکسائز پالیسی کے نفاذ میں سنگین کوتاہی کے پیش نظر کیا ہے۔ ان میں، دیگر چیزوں کے ساتھ، ٹینڈرز کو حتمی شکل دینے میں بے ضابطگیاں اور منتخب دکانداروں کو ٹینڈر کے بعد کے فوائد فراہم کرنا، جیسا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس (DOV) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: