کیا جی بی روڈ کی سیکس ورکرس نے بھی ڈالا ووٹ؟ انتخابات سے کتنی بدل سکتی ہے ان کی زندگی؟

بتادیں کہ 38 سالہ رادھیکا کو اسی کے عاشق نے دھوکہ دیکر یہاں کے ایک طوائف خانے میں بیچ دیا۔ مسلسل ملتی دھمکیوں کی وجہ سے اس نے آخرکار اپنے حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔

May 21, 2019 02:37 PM IST | Updated on: May 21, 2019 03:59 PM IST
کیا جی بی روڈ کی سیکس ورکرس نے بھی ڈالا ووٹ؟ انتخابات سے کتنی بدل سکتی ہے ان کی زندگی؟

کوئی بھی انہیں نہیں پوچھتا پھر بھی انہوں نے اپنے حق ووٹ کا استعمال کیا۔

نیوز18- آئی پی ایس او ایس کے ایگزٹ پول  کی مانیں تو دہلی میں بی جے پی اپنے 2014 کی کامیابی کو دوہرانے جارہی ہے۔ یہاں کی سبھی سات سیٹوں پر اس کے اچھے مظاہرہ کرنے کی امید ہے۔ سروے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ بی جے پی کو دہلی میں 6سے 7 سیٹوں پر جیت حاصل ہوسکتی ہے جبکہ کانگریس کے کھاتے میں ایک سیٹ آسکتی ہے۔

اے بی پی۔ نیلسن کے ایگزٹ پول نے دہلی میں بی جے پی کو 5 سیٹیں اور کانگریس ، عام آدمی پارٹی کو 1۔1 سیٹ دی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ایگزٹ پول کے مطابق بی جے پی کو 6سے 7 سیٹیں ملنے کا امکان ہے جبکہ کانگریس کو ایک اور عام آدمی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملتی نظر آرہی ہے۔

Loading...

دہلی کی بدنام گلیاں۔ حالانکہ اتنے شور۔شرابے کے باوجود ہندستان کی راجدھانی دہلی کے ایک حصے میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہی اپنے آپ میں وہاں کے لوگوں کیلئے بہت معنی رکھتا ہے۔ یہ علاقہ چاندنی چوک پارلیمانی حلقے کا ایک حصہ ہے اور اسے جی بی روڈ کے نام سےجانا جاتا ہے۔ دہلی کے تارکین وطن آبادی میں سے ہزاروں خواتین بطور سیکس ورکر جی بی روڈ میں رہتی اور کام کرتی ہیں۔ ان میں سبھی کسی نہ کسی طرح سے اس دھندے میں دھکیلی گئی ہیں۔

بتادیں کہ 38 سالہ رادھیکا کو اسی کے عاشق نے دھوکہ دیکر یہاں کے ایک طوائف خانے میں بیچ دیا۔ مسلسل ملتی دھمکیوں کی وجہ سے اس نے آخرکار اپنے حالات سے سمجھوتہ کرلیا۔

نہیں بدلی ان کی زندگی:  آزادی کے بعد سے دہلی میں غیر متوقع تبدیلیاں ہوئیں۔ ایسے میں جب یہ شہر اپنے 17 ویں لوک سبھا کے الیکشن کے دور سے گزر رہا ہے آزادی کے پہلے سے چل رہے ان طوائف خانوں میں جمہوریت کی روشنی اور شہریت حق جیسی چیزیں پہنچی ہی نہیں ہیں۔

رادھیکا کے مطابق یہاں رہنے والی زیادہ تر خواتین اسی کی طرح اپنے عاشق کے ساتھ گھر سے بھاگی تھیں اور پھر عاشق کے ہاتھوں دھوکے سے بیچ بھی دی گئی تھیں۔ وہ کہتی ہے کہ یہاں رہ رہی کئی بچیاں اپنے ہی غریب والدین کی طرف سے ایک مقررہ وقت کیلئے بیچی گئی ہیں۔ اس دوران ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور پھر انہیں واپس ان کے گاؤں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ تو ان میں سے کچھ لڑکیاں واپس کمائی کرنے کیلئے یہیں لوٹ آتی ہیں لیکن لوٹ کر وہ اپنی شرائط پر کام کرتی ہیں۔

دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال مسلسل ان طوائف خانوں کو بند کروانے کی تجویز رکھتی رہی ہیں جس سے انسانی اسمگلنگ کو روکا جاسکے۔ تاہم، ان خواتین کا الزام ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کرتے ہوئے یہ لیڈر صرف سیکس ورکرس کو جی بی روڈ سے ہٹانے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ کبھی بھی اپنی مشکلات کے ساتھ اپنے منتخب کئے گئے لیڈران کے پاس نہیں گئے۔ کچھ کا تو کہنا ہے کہ ایسی خواتین کو لیڈر اپنے دفتر میں گھسنے تک نہیں دیتے۔

رازداری برتنے کیلئے سبھی ناموں کو بدل دیا گیا ہے۔ سبھی نام تصوراتی ہیں۔

 

Loading...