ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی کے میٹرو پالٹین مجسٹریٹ کامران خان کا انتقال،ورچوئل سماعت کے دوران بگڑی تھی طبیعت

کامران خان کے ساتھی وکلاء جو ان کی عدالتی کارروائی میں شریک ہوتے تھے وہ انہیں ایک مریض جج کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ تمام ہی وکلاء اپنے ساتھی کامران خان کو نہایت ہی جفاکش، اپنے پیشے سے محبت کرنے والا اور ایمان دار مجسٹریٹ قرار دیتے ہیں۔

  • Share this:
دہلی کے میٹرو پالٹین مجسٹریٹ کامران خان کا انتقال،ورچوئل سماعت کے دوران بگڑی تھی طبیعت
کامران خان کی فائل فوٹو

وہ صرف ایک بہترین مجسٹریٹ نہیں تھے۔ بلکہ 6 فٹ کے شوقین کرکٹر، خوش مزاج، ذہین، جلد فیصلہ کرنے والے اور نرم دل انسان تھے۔ جن کا نام کامران خان تھا اور عمر صرف 32 سال، وہ بہت ہی خوش گوار انداز میں عدالت کی کارروائیوں کو انجام دیتے تھے۔میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کامران خان دوارکا ضلعی عدالت (Dwarka district court) میں اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔ جنہیں 15 اپریل کو کووڈ۔19 کی وجہ سے اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد ایک دن آرام کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔اسی دوران انھوں نے آرام کرنے کے بجائے ورچوئل لنک کے ذریعہ عدالت منعقد کی۔ سماعت کے دوران انھوں نے آرمس ایکٹ کیس (Arms Act) میں ملوث ایک شخص کی ضمانت منظور کرلی۔


خان کی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی حیثیت سے یہ آخری سماعت ثابت ہوئی۔ اسی دوران ان کی حالت مزید خراب ہوگئی اور انہیں 18 اپریل کو دہلی کے ویمہنس اسپتال (Vimhans Hospital ) میں آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا۔ جس کے اگلے ہی دن منگل کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔



کامران خان کے ساتھی وکلاء جو ان کی عدالتی کارروائی میں شریک ہوتے تھے وہ انہیں ایک مریض جج کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ تمام ہی وکلاء اپنے ساتھی کامران خان کو نہایت ہی جفاکش، اپنے پیشے سے محبت کرنے والا اور ایمان دار مجسٹریٹ قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ خان نے دہلی یونیورسٹی سے ایل ایل بی (بیچلر آف لاء) اور کوروکشترا یونیورسٹی سے ایل ایل ایم (ماسٹر آف لاء) مکمل کیا تھا۔ وہ اس سے قبل دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد ہریانہ کی ایک مقامی عدالت میں تعینات کیے گئے تھے۔

کامران خان دہلی میں ایسے دوسرے جج ہیں جس کی کورونا کی وجہ سے موت واقع ہوگئے۔ ان کے علاوہ 20 اپریل 2021 کو 47 سالہ دہلی فیملی کورٹس کے جج کوائی وینوگوپال (Kovai Venugopal) کا لوک نائک اسپتال میں کووڈ۔19 کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔
خان نے زیادہ تر غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام ایکٹ)، دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ، دہلی ڈویولپمنٹ ایکٹ، پالم پولیس اسٹیشن اور مایاپوری پامم ہوائی اڈے کے ٹریفک دائرے سے پیدا ہونے والے مقدمات کی سنوائی کی۔

دوارکا بار ایسوسی ایشن کے سکریٹری جئے سنگھ یادو (Jai Singh Yadav) نے کہا کہ ’’مجسٹریٹ ہونے کے باوجود خان کو اسپتال کا بستر ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ انھیں پتہ چلا کہ وہ اپریل کے شروع سے ہی بیمار تھے اور انھیں میکس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا‘‘۔

دوارکا کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وائی پی سنگھ نے کہا ’’خان انصاف پسند اور ایک ذہین جج تھے‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 28, 2021 02:24 PM IST