உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Delhi: تین میونسپل کارپوریشن کو ایک کردینے والا بل لوک سبھا میں ہوا پیش، ایسا رہے گا نیا خاکہ

    Delhi: تین میونسپل کارپوریشن کو ایک کردینے والا بل لوک سبھا میں ہوا پیش، ایسا رہے گا نیا خاکہ

    Delhi: تین میونسپل کارپوریشن کو ایک کردینے والا بل لوک سبھا میں ہوا پیش، ایسا رہے گا نیا خاکہ

    Delhi Municipal Corporation (Amendment) Bill 2022:دہلی کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو متحد کرنے کا بل جمعہ کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ بل میں انٹیگریٹڈ کارپوریشن میں وارڈز کی زیادہ سے زیادہ حد کو کم کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس کے لیے بل میں وارڈز کی حد اور تعداد کے تعین کے لیے نئی حد بندی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Delhi Municipal Corporation (Amendment) Bill 2022:دہلی کی تین میونسپل کارپوریشنوں کو متحد کرنے کا بل جمعہ کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ بل میں انٹیگریٹڈ کارپوریشن میں وارڈز کی زیادہ سے زیادہ حد کو کم کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس کے لیے بل میں وارڈز کی حد اور تعداد کے تعین کے لیے نئی حد بندی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے میں اب کارپوریشن انتخابات ملتوی ہوتے نظر آرہے ہیں، کیونکہ حد بندی کے عمل کو مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

      تینوں کارپوریشنوں کو ملا کر وارڈوں کی تعداد272 ہے
      مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے یہ بل پیش کیا، جس پر اگلے ہفتے بحث کے بعد منظور ہونے کا امکان ہے۔ بل کا نام میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ترمیمی) بل 2022 ہے۔ بل میں انٹیگریٹڈ کارپوریشن کے وارڈز کی کل تعداد کو کم کرنے اور اس کی بالائی حد مقرر کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس وقت تینوں کارپوریشنوں سمیت کل وارڈز کی تعداد 272 ہے جسے کم کر کے زیادہ سے زیادہ 250 کر دیا گیا ہے۔

      یہ بھی دیکھیں:
      مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ تک پہنچا حجاب تنازعہ، لوگوں میں نئی سیاسی بحث کا بنا موضوع

      بل میں حدبندی کی شق بھی کی گئی ہے شامل
      2012 میں جب کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تو اس کے صرف 137 وارڈ تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر وارڈز کی تعداد میں تبدیلی ہوتی ہے تو اس کی حدود کا بھی از سر نو تعین کیا جائے گا۔ اس کے لیے بل میں حد بندی کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور درج فہرست ذاتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

      بل میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد جب تک میونسپل کارپوریشن کے انتخابات مکمل نہیں ہوتے، مرکزی حکومت کارپوریشن کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے ایک خصوصی افسر کا تقرر کرے گی۔

      یہ بھی دیکھیں:
      UP Madarsaمیں طلبا اور اساتذہ کو دیگر دُعاؤں کے ساتھ راشٹریہ گان پڑھنا بھی ہوگا لازمی

      بل پیش ہونے سے پہلے اپوزیشن نے ظاہر کیا شدید اعتراض
      لوک سبھا میں بل کو پیش کرنے سے قبل اپوزیشن نے اس کی سخت مخالفت کی۔ کانگریس کے منیش تیواری نے کہا کہ آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو اس معاملے پر قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔ ساتھ ہی بی ایس پی کے رتیش پانڈے اور آر ایس پی کے این کے پریما چندرن نے بل کی دفعات کو وفاقی نظام پر حملہ قرار دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: